ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اماراتی شہریوں کا مذاق اڑانے والی ٹک ٹاک ویڈیو پر سوشل میڈیا انفلوئنسر گرفتار

datetime 14  جولائی  2023 |

دبئی (این این آئی )دبئی میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو ایک طنزیہ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا ہے، جس میں وہ ایک پرتعیش کاروں کے شو روم کے اندر دولت لٹانے والے امیر اماراتی کی تصویر کشی کر رہا ہے۔ویڈیو میں وہ حیران ملازمین پر نوٹوں کے ڈھیر پھینکتا ہے اور سب سے مہنگی کار خریدنے کی پیشکش کرتا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق حکام نے کہاکہ وہ دراصل اس شہر کے شاہانہ طرز زندگی کا مذاق اڑاتا ہے، جو اپنی چمکتی ہوئی فلک بوس عمارتوں اور منفرد سیاحتی مقامات کے لیے مشہور ہے۔دبئی سماجی طور پر مشرق وسطی کے زیادہ تر علاقوں سے زیادہ معتدل ہے، یہاں لباس اور تفریحی سرگرمیوں کی آزادی کے ساتھ ساتھ بار اور کلب بھی نظر آتے ہیں۔

تاہم، متحدہ عرب امارات کے کچھ قوانین کے تحت رہائشیوں کو عوامی سطح پر حکام پر تنقید کرنے یا سماجی اصولوں کا مذاق اڑانے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔انفلوئنسر، حمدان ال رند، جو خود کو آن لائن کار ایکسپرٹ کہتے ہیں، ایشیائی نژاد اور متحدہ عرب امارات کے رہائشی ہیں۔ ان کے ٹک ٹاک پر 2.5 ملین سے زیادہ پیروکار ہیں۔ ان کی تازہ ترین ویڈیو کو گرفتاری کے بعد ہٹائے جانے سے پہلے بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔ویڈیو میں، انہوں نے قندورہ پہن رکھا ہے، یہ لمبا سفید لباس جسے عام طور پر اماراتی مرد پہنتے ہیں، چشمے اور سرجیکل ماسک کے ساتھ وہ بھاری عربی لہجے کے ساتھ انگریزی میں ملازمین سے بات کرتے ہیں جبکہ ان کے معاونین نقدی کے ڈھیروں سے بھرے اسٹریچر کے گرد گھومتے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان پر پروپیگنڈا جو کہ رائے عامہ کو مشتعل کرتا ہے اور مفاد عامہ کو نقصان پہنچاتا ہے ، پھیلا کر انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ویڈیو اماراتی شہریوں کا غلط اور جارحانہ تصور پیش کرتی ہے اور ان کا مذاق اڑاتی ہے۔حمدان ال رند، جو متحدہ عرب امارات میں اپنی کار ڈیلرشپ چلاتے ہیں، اس سے پہلے بھی طنزیہ ویڈیوز پوسٹ کر چکے ہیں- ان میں سے ایک وائرل ویڈیو میں انہوں نے خود کو ایک امیر اماراتی کے طور اپنی چار بیویوں کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدتے ہوئے دکھایا ہے۔

اس کے علاوہ گاڑیوں کو ٹھیک کرنے کے بارے میں ویڈیو ٹیوٹوریلز بھی پوسٹ کرتے ہیں۔جنوری 2022 میں نافذ کیے گئے سائبر کرائم قانون کے تحت درج ذیل چند پہلوں کو سائبر جرائم کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں دوسروں کی توہین اور غیبت کرنا، ایسے ڈیٹا کو شائع کرنا جو میڈیا کے مواد کے معیارات کے مطابق نہیں ہے، غیر قانونی مواد بنانا اور اسے ہٹانے سے گریز کرنا، غیر ملکی ملک یا مذہب کی توہین کرنا اور مزید شامل ہیں۔پچھلے مہینے، متحدہ عرب امارات کے رہائشی ایک عرب شہری کو مردوں اور گھریلو ملازمین کے خلاف ایک ویڈیو پوسٹ کرکے نفرت انگیز تقاریر کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ سال قید اور 136,000 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…