ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

فائرنگ سے 6بہنوں کا اکلوتا بھائی جاں بحق

datetime 10  جولائی  2023 |

بیٹے کی چار سال قبل شادی ہوئی تھی،مقامی فیکٹری کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا ،والد
کراچی (این این آئی)قائد آباد تھانے کے علاقے نیومظفرآباد کالونی میں لوٹ مارکی واردات کے دوران ڈاکووں کی فائرنگ سے زخمی ہوکردم توڑجانے والا 26 سالہ نوجوان احسان اللہ ولد فضل وہاب 2 بچوں کا باپ اور6 بہنوں کا اکلوتا بھائی اوربوڑھے والد کا واحد سہارا تھا ،مقتول نوجوان کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی چار سال قبل شادی ہوئی تھی اوربیٹا 12 جماعتیں اور قرآن پاک پڑھا ہوا تھا اور گودام چورنگی کے قریب گارمنٹس فیکٹری میں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کرتا تھاانھوں نے بتایا کہ اتوارکی شب بیٹا بھانجے کی شادی کی تقریب میں شرکت کر کے گھر آنے کے بعد اپنے بچے کے ہمراہ گھر کے باہر بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران موٹرسائیکل سوار2 مسلح ملزمان آئے جنہیں دیکھ کران کا بیٹا گلی میں بھاگا توملزمان نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا جسے فوری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑگیا۔

والد نے بتایا کہ جب واقعہ ہوا تو میں نیوکراچی میں میت میں شرکت کے بعد گھر پہنچا تھا ،مسلح ملزمان نے بھانجے سے توموبائل فون چھین لیااوربیٹا اٹھ کربھاگا تومسلح ملزمان نے عقب سے فائرنگ کردی۔انہوں نے کہا کہ مقتول نوجوان کے والد نے اعلی پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث ملزمان کو فل الفورگرفتار کیا جائے ان کا بیٹا تواس دنیا سے چلا گیا دوسروں کے بچے محفوظ رہ سکیں۔مقتول نوجوان کے چچا کے بتایا کہ ان کا بھتیجا انتہائی شریف اورملنسار تھا اس کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھا ، صرف والد کی خدمت، بہنوں اوراپنے بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ بھتیجا کرکٹ کھیلنے کا بہت زیادہ شوقین تھا،مقتول نوجوان کے کزن قاسم نے بتایا کہ مقتول کزن کے قتل میں ملوث ملزمان روڈ نمبرایک سے روٹ نمبر سات تک وارداتیں کرتے رہے۔انھوں نے کہا کہ مسلح ملزمان نے تقریبا سات وارداتیں کیں لیکن انہیں کوئی روکنے والا نہیں تھا ، واقعے کے بعد اہلخانہ اور اہل محلہ نے اسپتال چورنگی پر احتجاج کیا جہاں پولیس افسران نے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے ان سے 72 گھنٹے کا وقت مانگا ہے جو پولیس افسران کو دے دیا گیا ہے اگر 72 گھنٹوں میں ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو دوبارہ شدید احتجاج کیا جائے گا۔انھوں نے بتایا کہ علاقے میں اسٹریٹ کرائم اور منشیات فروشی عروج پرہے لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے دریں اثنا مقتول نوجوان کی نماز جنازہ نیومظفرآباد کالونی میں واقع رحمانیہ مسجد میں ادا کی گئی اورمقتول کو مسجد سے متصل قبرستان میں ہی آہوں اورسسکیوں پرسپرد خاک کردیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…