جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پانامہ لیکس بینچ کے 2 ججز چیف جسٹس بنے مگر انہوں نے کچھ نہ کیا،سراج الحق

datetime 9  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس بینچ کے 2 ججز چیف جسٹس بنے مگر انہوں نے کچھ نہ کیا،پانامہ لیکس میں 436 پاکستانیوں کا نام تھا، جماعت اسلامی نے اس پر سب سے پہلے کارروائی کی درخواست کی تھی،افسوس صرف ایک فرد کے خلاف فیصلہ ہوا، پانامہ لیکس میں ملوث 435 افراد کے خلاف کچھ بھی نہ ہوا

کرپشن کے ناسور کے خلاف جدو جہد ہر ایک پر لازم ہے۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ کرپشن کے ناسور کے خلاف جدو جہد ہر ایک پر لازم ہے۔انہوںنے کہاکہ پانامہ لیکس میں 436 پاکستانیوں کا نام تھا، جماعت اسلامی نے اس پر سب سے پہلے کارروائی کی درخواست کی تھی۔سراج الحق نے کہا کہ افسوس کہ صرف ایک فرد کے خلاف فیصلہ ہوا، پانامہ لیکس میں ملوث 435 افراد کے خلاف کچھ بھی نہ ہوا۔انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ملک میں احتساب کے ادارے کیا کر رہے ہیں؟ ایف آئی اے، نیب اور دیگر اداروں نے کیا کام کیا؟۔امیر جماعتِ اسلامی پاکستان نے کہا کہ حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہوجاتے ہیں البتہ اپوزیشن کے خلاف تمام ادارے تیز ہو جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عوام کے حقوق لینے سپریم کورٹ میں حاضر ہوئے ہیں، چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنا فرض پورا کرے۔سراج الحق نے کہا کہ امید کرتا ہوں کہ ہمیں انصاف ملے گا، اس دفعہ بھی پانامہ لیکس کیس کے لیے ایک جے آئی ٹی بنائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…