لاہور ( نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نے پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن ) (ترمیمی ) آرڈیننس 2015ءنافذ کیاہے جو فوری طو رپر نافذ العمل ہوگا ´۔آرڈیننس کے تحت ادارے کا انچارج رجسٹرنگ اتھارٹی سے اپنے ادارے کو رجسٹر کرائے گا،اگر ادارہ رجسٹرڈ نہیں ہے تو انچارج آرڈیننس کے آغاز کے 45دن کے اندر ادارے کی رجسٹریشن کے لئے درخواست دے گا اور رجسٹرنگ اتھارٹی درخواست موصول ہونے کی تاریخ سے60 دن کے اندر اس ضمن میں فیصلہ کرے گی ،تاہم ادارہ درخواست کے فیصلے تک کام جاری رکھے گا ۔آرڈیننس کے تحت کوئی ادارہ تعلیمی سال2015-16 کے دوران تعلیمی سال 2014-15 کے دوران موصول کردہ فیس سے زیادہ شرح کے مطابق فیس وصول نہیں کرے گا ۔اگر اگلے تعلیمی سال کے لئے فیس میں مناسب اضافے کا خاص جواز ہے تو انچارج آئندہ تعلیمی سال شروع ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل رجسٹرنگ اتھارٹی کو فیس میں مناسب اضافے کی تجویز بھجواسکتاہے ۔رجسٹرنگ اتھارٹی فیس کی زیادہ سے زیادہ رقم مقرر کرے گی جو کوئی ادارہ یا ادار وں کی کیٹگری طلباءسے وصول کریں گے ۔کوئی ادارہ طلباءسے فیس کے علاوہ کوئی دوسری رقم وصول نہیں کرے گا اور انچارج آرڈیننس کے اجراءکے سات دن کے اندرپہلے سے وصول کردہ اضافی فیس کو واپس کرے گا یا طالب علم کی جانب سے دی جانے والی فیس میں ایڈجسٹ کرے گا ۔داخلہ یا سکیورٹی فیس کسی طالب علم کی جانب سے دی گئی ایک ماہ کی ٹیوشن فیس سے زیادہ نہیں ہوگی ۔فیس میں داخلہ فیس ، ٹیوشن فیس ، سیکورٹی ، لیبارٹری فیس ،لائبریری فیس یا کوئی دیگر فیس یا ادارے کی جانب سے طلباءسے وصول کی گئی رقم شامل ہوگی۔ادارہ والدین کو کسی مخصوص دکان یا سپلائر سے درسی کتب، یونیفارم یا دیگر میٹریل خریدنے کے لئے پابند نہیں کرسکے گا ۔رجسٹرنگ اتھارٹی کے حتمی حکم سے متاثرہ اشخاص تیس دن کے اندر اندر ڈویژنل کمشنر کو اپیل کرسکتے ہیں اور کمشنر تیس دن کے اندر فیصلہ کرے گا اور کمشنر کا فیصلہ حتمی ہوگا ۔اگر کوئی انچارج آرڈیننس کی دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے تورجسٹرنگ اتھارٹی مناسب دفاع کا موقع فراہم کرنے کے بعد نوٹس کی تاریخ سے ادارے کو 20 ہزار روپے تک یومیہ جرمانہ کر سکتی ہے۔اگر خلاف ورزی تیس دن سے زیادہ دیر تک جاری رہتی ہے تو رجسٹرنگ ارتھارٹی آرڈیننس کے تحت دوسری کارروائی یا سزا کے علاوہ درجہ اول مجسٹریٹ کی عدالت میں شکایت کروائے گی اور عدالت انچارج کو سزا کے ساتھ 20 لاکھ روپے تک جرمانہ کرسکتی ہے لیکن دولاکھ روپے سے کم نہیں ہوگا ۔اگر انچارج آرڈیننس کے تحت رجسٹریشن کے بغیر ادارہ چلاتا ہے تو اس کو 40 لاکھ روپے تک سزا ہوسکتی ہے لیکن تین لاکھ روپے سے کم نہیں ہوگی ۔رجسٹرنگ اتھارٹی انچارج کو سنے بغیر سزا یا جرمانہ نہیں کرے گی ۔
پنجاب حکومت نے پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن ) (ترمیمی ) آرڈیننس نافذ کر دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
iPhone 18 Pro Max کی پاکستان میں قیمت اور PTA ٹیکس سامنے آگیا
-
بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
-
گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر کردی گئیں
-
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-
مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار، خوفناک انکشافات
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟
-
2027 میں کیا ہوگا؟ خطرناک پیشگوئی سامنے آ گئی
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا



















































