بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

آصف علی زرداری بھاگ نہیں گئے، پیپلزپارٹی کا اعلان

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے سابق ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی جانب سے ایک انٹرویو میں سابق صدر زرداری کے خلاف یہ کہنے پر کہ صدر زرداری نے جیل میں کوئی صعوبتیں نہیں جھیلیں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری ایک مسلمہ بزدل جنرل مشرف کی طرح عدالت کے سامنے پیش ہونے سے بھاگ نہیں گئے اور ایک بھگوڑے کو ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ مشرف کو ڈر تھا کہ اسے عدلت جیل بھیج دے گی اس وجہ سے اس نے اپنے ڈرائیور کو سینے کا بہانہ بنا کر گاڑی راولپنڈی کے ہسپتال کی جانب موڑنے کو کہا۔ عدالت میں اس کے وکیل مشرف کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ جنرل مشرف کی بزدلی ساری زندگی ان کا پیچھاکرتی رہے گی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آصف علی زرداری نے گیارہ سال قید میں گزارے جس کے دوران طویل عرصے تک انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ انہوں نے ایک شہر سے دوسرے شہر عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔ ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کے لئے عدالت اٹک قلعہ میں لگائی گئی۔ جب ایک ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری کو سزا دی تو سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر کہ تعصب مقدمے کے ریکارڈ پر تیر رہا تھا۔ آصف علی زرداری کو اپنے بڑھتے ہوئے بچوں سے دور رکھا گیا حالانکہ اس وقت بچوں کو باپ کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ تشدد نہیں تو تشدد کسے کہا جاتا ہے۔ جنرل مشرف آدھا دن بھی اس تشدد کو برداشت نہیں کر سکتے۔ پیپلز پارٹی اس بات کا خیرمقدم کرے گی کہ جنرل مشرف اس آم کے درخت کے نیچے سائے میں کھڑے ہوں جو لاہور جیل میں آصف علی زرداری نے لگایا تھا۔ جنرل مشرف کو صرف آدھے دن جیل کاٹنے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ اگر یہ بیان جنرل مشرف جیسے بزدل شخص کی جانب سے نہ آیا ہوتا تو وہ کبھی بھی اس کا جواب نہ دیتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…