بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور ایئربیس حملے کی وہ معلومات جو آپ تک پہلے نہیں پہنچیں

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک )بڈھ بیر ایئرفورس بیس کیمپ پر دہشت گردوں نے کس طرح سے حملہ کیا اس کی کچھ تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔صبح کے وقت دہشت گردوں نے حملہ کیا تو وہ اپنے ہدف سے صرف200میٹر دور گاڑیوں سے اترے اور دو ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے۔دہشت گرد انقلاب روڈ پر مرکزی دروازے کے سامنے سے گزر کر آگئے گئے اور وہاں پر گاڑی چھوڑ دی۔دہشت گردوں کے ایک گروپ نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا جبکہ دوسرا دیوار پھلانگ کر مسجد کے قریب پہنچ گیا۔دہشت گردوں کا پہلا گروہ اعلی افسروں کے گھروں پر حملہ کرنا چاہتا تھا،  رپورٹ کے مطابق اعلی افسروں کے گھروں پر حملہ کرنے والے گروپ نے پہلے گارڈ روم پر حملہ کیا جبکہ دوسرے گروپ نے اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور مسجد میں گھس کر وہاں پر فائرنگ کردی۔گارڈ روم میں موجود اہلکاروں نے دہشت گردوں کو تھوڑی دیر تک روکے رکھا اس دوران کوئیک رسپانس فورس موقع پر پہنچ گئی اور اس نے دہشت گردوں کی گھروں میں داخلے کی کوشش ناکام بنادی، جب تک کوئیک رسپانس فورس مسجد میں پہنچی اس وقت تک16نمازی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوچکے تھے۔وہاں پر موجود دہشت گردوں کی ٹولی کو کوئیک رسپانس فورس کے اہلکاروں نے ہلاک کیا۔اس دوران فائرنگ سے کیپٹن اسفند یار بخاری بھی شہید ہوگئے۔شہید ہونے والے پاک فضائیہ کے تینوں ٹیکنیشن گارڈ روم میں تھے جو سب سے پہلے حملے کا نشانہ بنا۔اس واقعے میں موقع پر20افراد شہید ہوئے جن میں16نمازی، پاک آرمی کے کیپٹن اسفند یار بخاری اور پاک فضائیہ کے تین ٹیکنیشن شامل ہیں جبکہ 39زخمیوں کو سی ایم ایچ اور لیڈی ریڈنگ اسپتال لایا گیا، ان میں سے بھی9زخمی دم توڑ گئے، اس طرح اس واقعے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد29رہی۔دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر نہتے نمازیوں پر حملہ کیا جبکہ دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مقابلے میں چار اہلکار شہید ہوئے۔شہید ہونے والے نمازیوں میں بھی کچھ حاضر سروس اہلکار اور کچھ ان کے والدین یا دیگر رشتہ دار شامل ہیں۔سکیورٹی فورسز نے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد حملہ کرنے والے تمام کے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔حملے میں13دہشت گردوں نے حصہ لیا اور سب ہی ہلاک ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…