بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ایل او سی فائرنگ‘ پاکستان کا ہندوستان سے احتجاج

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان نے ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو طلب کرکے ہندوستانی بارڈر سکیورٹی فورسز کی جانب سے سیز فائر کی حالیہ خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا ہے.یاد رہے کہ گذشتہ روز آزاد جموں و کشمیر کے ڈسٹرکٹ کوٹلی کے نکیال سیکٹر پر ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے 3 پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے.دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا اور سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے طلب کیا اور نکیال سیکڑ پر ہندوستانی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج کیا.گذشتہ روز اولی گاو¿ں کی 12 سالہ لائبہ شبیر اور مہڑہ دھروتی گاو¿ں کے 19 سالہ زاہد اور 55 سالہ صوفی امین گھروں پر مارٹر گولے گرنے سے ہلاک ہوئے تھے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت پاکستان ہندوستانی فورسز کی جانب سے سیز فائر کی حالیہ خلاف ورزی اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتی ہے.دفتر خارجہ کے بیان میں ہندوستان پر سیز فائر کی خلاف ورزی کو روکنے اور 2003 کے سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے تاکہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باو¿نڈری پر امن قائم کیا جاسکے.بیان میں متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا بھی کی گئی ہے.واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدی فورسز کے ایک اجلاس کے دوران ہندوستانی حکام نے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جانب سے گولی چلانے میں پہل نہیں کی جائے گی تاہم ان مذاکرات کے دو روز بعد ہی ہندوستانی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر پاکستانی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پاکستان رینجرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ساتھ مذاکرات میں ورکنگ باو¿نڈری پر فائر بندی روکنے پر اتفاق کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…