جمعرات‬‮ ، 30 اپریل‬‮ 2026 

چار روز کی شدید سیاسی بدامنی، قوم کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا

datetime 13  مئی‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) چار روز کی شدید سیاسی بدامنی کے نتیجے میں، قوم کو اربوں روپے کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے ساتھ جان و مال کانقصان بھی ہوا۔ اس صورتحال کے جواب میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے تمام سیاسی جماعتوں سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی معیشت کی بحالی کو ترجیح دیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جاری سیاسی بدامنی کے نتیجے میں ملکی معیشت کو 10 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ ان اعداد و شمار میں کاروبار پر براہ راست اثر، صارفین کے اخراجات میں کمی، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات شامل ہیں۔ بدامنی نے مینوفیکچرنگ، سیاحت اورسروسز سمیت متعدد شعبوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

صدر لاہور چیمبر کاشف انور نے کہا کہ معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور ٹھوس کوشش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک جامع چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کو راغب کرنا اور معاشی بحالی کے کلیدی محرکات کے طور پر مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔مجوزہ چارٹر آف اکانومی میں متعدد اسٹریٹجک اقدامات شامل ہوں گے، جن میں کاروبار کرنے میں آسانی کو بڑھانے، سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ ضابطوں کا قیام ، مضبوط انفراسٹرکچر تیار کرنے، اور ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کی پالیسیاں شامل ہیں۔

یہ اقدامات معاشی نمو کو بحال کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مختلف شعبوں میں پائیدار ترقی کے لیے بنائے گئے ہیں۔لاہور چیمبر کے صدر کی سیاسی جماعتوں سے چارٹر آف اکانومی کے تحت متحد ہونے کی درخواست اس فہم پر مبنی ہے کہ قوم کا استحکام اور خوشحالی اجتماعی عمل اور مشترکہ ذمہ داری پر منحصر ہے۔ متعصبانہ مفادات کو ایک طرف رکھ کر اور معیشت کی بہتری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، امید کی جاتی ہے کہ سیاسی رہنما تمام شہریوں کے لیے استحکام، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بناتے ہوئے ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار کریں گے۔جیسا کہ قوم حالیہ سیاسی بدامنی کے نتیجے میں مشکلات سے دوچار ہے، ایک جامع چارٹر آف اکانومی کا نفاذ امید کی کرن کے طور پر ہو گا ، جو معاشی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا راستہ پیش کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اتحاد کے مطالبے پر دھیان دیں اور ایک لچکدار اور فروغ پزیر قومی معیشت کی سمت طے کرنے کے لیے کوشش کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…