جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روس نے سزائے موت پر عملدرآمد موخر کرانے کی بڑی کوشش کی مگر ایک نہ چلی

datetime 22  دسمبر‬‮  2014 |

ماسکو۔۔۔۔روس کی وزارت خارجہ نے ایک مختصر بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کے شہری اخلاص احمد کو اتوار کے روز فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔اسلام آباد میں روس کے سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ روس نے کئی بار حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ انسانی بنیادوں پر اخلاص احمد کو دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے۔روسی سفارتخانے کے مطابق اخلاص احمد کے پاس روس اور پاکستان کی دوہری شہریت تھی۔روسی سفارتخانے کے مطابق سفارتخانے اور روسی شہری اخلاص احمد نے وکیل نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے چھ افراد کے ڈیتھ وارنٹس پر دستخط کرنے کے بعد کئی بار کوشش کی کہ اخلاص احمد کی سزائے موت پر عملدرآمد موخر کردیا جائے۔موت کی سزا پانے والے 34 سالہ اخلاص روسی شہری ہیں اور وہ سنہ 2001 میں روس سے پاکستان آئے تھے۔فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث مزید چار مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔جیل حکام کے مطابق ملزمان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے بعد ان کی اپنے اہل خانہ کی آخری ملاقات بھی کروا دی گئی تھی۔
اتوار کو سزائے موت پانے والے مجرمان کو سابق صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔25 دسمبر 2003 کو ہونے والے اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسی جرم میں ایک اور مجرم نائیک ارشد محمود کو فیصل آباد میں ہی جمعے کو پھانسی دی جا چکی ہے۔موت کی سزا پانے والے 34 سالہ اخلاص روسی شہری ہیں اور وہ سنہ 2001 میں روس سے پاکستان آئے تھے۔اخلاص کے والد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کوٹلی سے ہے جبکہ والدہ روسی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ والد کے پاس قیام کے لیے پاکستان آمد کے بعد ان کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کچھ جہادی تنظیموں سے رابطے قائم ہوئے اور اسی دوران وہ وہ سنہ 2003 کے اوائل میں وہ لاپتہ ہوگئے۔
اخلاص کے والد ڈاکٹر اخلاق یہ کہتے رہے ہیں کہ استغاثہ کی طرف سے اخلاص پر یہ بھی الزامات لگائے گئے کہ وہ 1996 سے 2003 تک جہادی سرگرمیوں میں ملوث رہے جبکہ وہ سنہ 1997 سے 2001 تک اپنی روسی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ روس میں تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…