پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

فلمساز جاوید وڑائچ”کوک اسٹوڈیو“ کےخلاف5کروڑ ہرجانے کا دعویٰ کریں گے

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان میوزک کے سدا بہار گیتوں سے ” کوک اسٹوڈیو “ میں چھیڑچھاڑ کرنے کی ” روزنامہ ایکسپریس “ میں 11 ستمبرکوشائع ہونے والی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے فلمسازجاویدوڑائچ نے بطور پروڈیوسراپنے بڑے بھائی چوہدری پرویزوڑائچ کی 1977ءفلم ’میرے حضور‘کا مقبول زمانہ گیت ’میری سانسوں میں آج تک وہ حنا کی خوشبو‘ کوبلااجازت کوک اسٹوڈیومیں شامل کرنے اوراس کی دھن کو”بگاڑنے ‘ پرپانچ کروڑروپے ہرجانے کا دعوی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کوک اسٹوڈیو کے حالیہ سیزن میں ماضی کے بہت سے مقبول گیت نوجوان گلوکاروں نے گائے ہیں۔ ان میں سے ایک گیت ’میری سانسوں میں آج تک وہ ‘ ملکہ ترنم نورجہاں اورشہنشاہ غزل مہدی حسن نے فلم ”میرے حضور “ کے لیے ریکارڈ کروایا تھا۔ اس گیت کو ’کوک اسٹوڈیو‘ میں نوجوان گلوکار عاصم مظہراور ثمرہ خان نے گایا ہے۔
جس پرمیوزک حلقوں نے شدیدتنقید کی ہے جب کہ فلمساز جاویدوڑائچ نے فلم کا گیت بلااجازت کوک اسٹوڈیو میں شامل کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے۔اس سلسلہ میں رابطہ کرنے پر جاوید وڑائچ نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسیقی کے فروغ کیلیے ”کوک اسٹوڈیو“ جیسے پروگراموں کاانعقاد بہت ضروری ہے لیکن جس طرح سدابہار گیتوں کو ”بگاڑ“ کرپیش کیا جارہا ہے اور بغیر اجازت انھیں نئے گلوکاروں کی آوازمیں ریکارڈکیا جارہا ہے میں نے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اپنی فلم کا گیت شامل کرنے پر ”کوک اسٹوڈیو“ کی مینجمنٹ کے خلاف پانچ کروڑہرجانے کا دعویٰ دائر کررہاہوں اورجلد ہی میرے وکیل کی جانب سے انھیں نوٹس بھجوادیا جائے گا۔ دوسری طرف میوزک پروڈیوسرفاروق راو¿ کا کہنا ہے کہ ”کوک اسٹوڈیو“ میں ”فیوڑن نہیں بلکہ کنفیوڑن“ پھیلائی جارہی ہے۔
دنیا بھر میں ”کوک اسٹوڈیو“ کا مقصد میوزک اوراپنے کلچرکوفروغ دینا ہے لیکن ہمارے ہاں میوزک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ سدا بہار گیتوں کوان گلوکاروں کے رحم وکرم پرچھوڑدیا گیا ہے جن کومیوزک کی ’الف ب‘ کا پتہ نہیں۔ اس پر ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…