ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی تقرری درست ہے یا نہیں ؟ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا

datetime 14  اپریل‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے سید محسن نقوی کی بطور نگراں وزیر اعلی پنجاب تقرری کے خلاف درخواستیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے تقرری درست قرار دے دی۔ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شیخ رشید سمیت دیگر کی درخواستیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔

شیخ رشید سمیت دیگر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سید محسن نقوی کی تقرری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ۔وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ سمیت دیگر وکلا نے کیس کی پیروی کی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نگران وزیر اعلی کی تقرری میں الیکشن کمیشن کے طریقہ کار میں غیر قانونی اقدام ثابت نہیں سکے،درخواستیں خلاف میرٹ ہونے کے باعث خارج کی جاتی ہیں ،بطور اراکین کمیٹی اپوزیشن جماعتوں کی رائے میں بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کچھ غیر قانونی نہ تھا۔ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جسکے پاس نگران وزیر اعلی کے تقرر کا آئینی اختیار ہے۔ عدالت الیکشن کمیشن کے فیصلے کے میرٹ پر نہیں جائے گی بلکہ صرف اسکے طریقہ کار کو دیکھے گی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نگران وزیراعلی کا تقرر ایک سیاسی سوال ہے جسے سیاسی قیادت نے حل کرنا ہے لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ حکومتی اور اپوزیشن نے خود یہ معاملہ فیصلے کے لیے الیکشن کمیشن کو بھیجا۔آئینی اختیارات کے تحت فیصلے اگر آئین کے خلاف ہوں تو ہی عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے آئینی اختیار کے مطابق نگران وزیراعلی پنجاب کا تقرر کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…