ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

جوڈیشل مارشل لا کے خلاف علم بغاوت بلند ، ججز نے اپنا نام عاشقان عمران، عاشقان پی ٹی آئی میں لکھوانے کو ترجیح دی، مولانا اسعد محمود

datetime 4  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود نے کہاہے کہ ججز نے اپنا نام عاشقان عمران، عاشقان پی ٹی آئی میں لکھوانے کو ترجیح دی، آپ نے آئین و جمہور کا جنازہ نکالا ہے،جوڈیشل مارشل لا کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں،کسی صورت بھی آپ کے اس ناجائز، غیر شرعی فیصلے کو پاکستان میں نافذ العمل نہیں ہونے دیں گے،

آئین و قانون کی حد تک ہم آخری دم تک لڑیں گے،جناب وزیراعظم نہ آپ کو تنہا چھوڑیں گے، نہ آئین کو تنہا چھوڑیں گے،یہ فیصلوں کا اتوار بازار بند کرنا پڑے گا۔ منگل کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود نے کہا کہ انتخابات کیس کے حوالے سے پارلیمنٹ میں قرارداد پاس کی گئی کہ جو جج صاحبان سپریم کورٹ میں کیس سن رہے ہیں وہ انصاف کے پیمانے پر پورا نہیں اتر رہے، ان کا پس منظر اور تاریخ میں دیے گئے فیصلے وہ تاریخ میں روشن باب ہیں، ایک قرار داد پاس کرکے ایک پیغام بھیجا گیا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں اور اس مقدمے کو فل کورٹ سنے اور فیصلہ دے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان، پیپلزپارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو، جے یو آئی کی طرف سے میں نے اور دیگر جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر ان سے مطالبہ کیا کہ کیس کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔مولانا اسعد محمود نے کہا کہ 2000 کے بعد آج ہمیں جس عدالتی بحران کا سامنا ہے، عدالت نے آج اپنے فیصلے سے قوم کے اندر جس تقسیم کی بنیاد رکھی ہے کہیں یہ بحران ہمیں بہا کر نہ لے جائے، یہ من پسند فیصلے جو عدالت کر رہی ہے، ان کو پارلیمنٹ کا لحاظ ہے نہ ان کو سیاسی جماعتوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کا لحاظ ہے، تنازع کس بات پر ہے، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمارے حق میں یا عمران خان کے خلاف فیصلہ کریں، صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ غیر متنازع بینچ تشکیل دیں لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگیں۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ ہم ججوں کو کون کون سے معزز ناموں سے ان کو پکار رہے ہیں لیکن انہوں نے اس ایوان کی قرارداد کا لحاظ نہیں رکھا، وہ ایک فیصلے سے اپنی غیر جانبداری دکھا سکتے تھے لیکن انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ ہم اپنا نام عاشقان عمران اور عاشقان تحریک انصاف میں اپنا نام لکھوالیں۔مولانا اسعد محمود نے کہا کہ عدالت کو آئین کے تحت فیصلے کرنا اختیار ہے

لیکن یہ اختیار نہیں ہے کہ الیکشن کے ڈومین میں گھس کر فیصلہ کریں، الیکشن کی تاریخ بھی آپ دیں، اس کا طریقہ کار بھی آپ دیں، یہ جانبدارنہ فیصلہ دیں، سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے، ہمیں انصاف چاہیے، ہم نے ملک میں ملٹری مارشل لا کے خالف جدوجہد کی، آج بھی ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم جوڈیشل مارشل لا کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں،

ہم کسی صورت بھی جوڈشل مارشل لا کو قبول نہیں کرتے، عدالتوں کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عدالتیں اگر اپنے اندر آئین و قانون کی عمل داری اور حکمرانی کیلئے آپس میں اتفاق نہیں کر سکتے تو پھر آپ کو اپنے گریبان میں دیکھنا ہوگا، آپ نے عدلیہ کو تقسیم کیا ہے ، آپ سمجھتے ہیں کہ آپ عوام میں تقسیم اور ملک میں بحران کی بنیاد ڈالیں گے، قوم کو اضطراب کا شکار کریں گے اور آپ اپنے گھروں میں سکون اور اطمینان کے ساتھ سوئیں گے تو آپ نے جو بے انصافی کی،

عدل کا جو جنازہ نکالا، آپ کی روح اور آپ کے دل کو اطمینان نہیں ملے گا، آپ نے آئین و جمہور کا جنازہ نکالا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے اکابرین، آبا و اجداد کی جد و جہد کی جو امانت ہمیں ملی ہے ہم آئین و جمہوریت برقرار رکھیں گے اور کسی صورت بھی آپ کے اس ناجائز، غیر شرعی فیصلے کو پاکستان میں نافذ العمل نہیں ہونے دیں گے، آئین و قانون کی حد تک ہم آخری دم تک لڑیں گے۔

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ عدالت کہتی ہے الیکشن کمیشن کو کہ حکومت آپ کی بات نہ مانے تو ہمیں بتائیں، کل حکومت نے فیصلہ کیا کہ رجسٹرار کو واپس بلاتے ہیں، آج آپ نے انکار کیا، الیکشن کمیشن انتظامی معاملات میں عدم تعاون پر آپ کو شکایت کرے، آپ کے خلاف ہم کہاں شکایت کریں، ہمیں بتایا جائے، آپ انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا جب سے یہ حکومت بنی ہے، وزیراعظم نے بھی مشاورت کی ہے، اس مشاورت کی بنیاد پر ہم پاکستان کے مستقبل کا تعین کریں گے،

جناب وزیراعظم ایسے نہیں چھوڑیں گے، نہ آپ کو تنہا چھوڑیں گے، نہ آئین کو تنہا چھوڑیں گے، نہ پارلیمان کو کسی کے رحم و کرم پر چھوڑیں گے، ہم اسباب و عوامل جانتے ہیں لیکن ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم کہتے ہیں کہ جج پر پردہ پڑا رہے، جرنیل پر بھی پردہ پڑا رہے لیکن جب بھی موقع ملتا ہے تو جو گناہ سیاست دان نے کیے بھی نہیں ہوتے، انہیں بھی اچھال دیا جاتا ہے۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ آئیں ملک کے سیاسی و معاشی استحکام کے لیے بات کریں، آج سپریم کورٹ کہتی ہے کہ پارلیمان عمران خان سے بات کرے جس کا پارلیمان سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، کبھی عدالت نے نہیں کہا کہ سعد رضوی سے بات کرو، ملک میں عسکریت پسندی پروان چڑھتی ہے، عدالت نے کبھی اس کا از خود نوٹس نہیں لیا، کبھی متفقہ فیصلہ نہیں کیا کہ مذاکرات کریں یا آپریشن کریں،

اس پر از خود نوٹس نہیں لیا جاتا، قوم پرست، مذہبی تنظیمیں، اقلیتیں اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتی ہیں، تحریک چلاتی ہیں، اس پر کیوں از خود نوٹس نہیں لیا جاتا۔مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ہم وزیراعظم کے شانہ بشانہ تھے، ہیں اور اگر ہم آپ کو حق پر نہ سمجھتے تو آپ کے ساتھ نہ ہوتے،

ہم اس آئین اور جمہوریت کیلئے آپ کے ساتھ ہیں، ہم آئینی و قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، جس طرح سے آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، یہ جو فیصلوں کا اتوار بازار لگا ہوا ہے، اس کوبند کرنا پڑے گا، آئین و قانون کی عملداری اور بالادستی کو سب کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…