اسلام آ باد(پی پی آ ئی) وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے فیصلے پر دکھ اور افسوس کرسکتا ہوں۔
فیصلے سے سیاسی اور آئینی بحران مزید سنگین ہوگا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ نے سیاسی جماعتوں، بارکو نسلز کے مطالبے کے باجود فیصلہ دیا، سب نے کہا فل کورٹ اس کیس کا فیصلہ دیتی، اجتماعی طور پر فیصلہ کرناچاہیے تھا۔اس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں وزیر قانون نے کہا کہ بینچ چاروں صوبوں کے ججز پر مشتمل ہونا چاہئے، ایک صوبے سے ججز کا بینچ ایسا لگ رہا ہے جیسے تخت لاہور ہے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پنجاب میں انتخابات کے التواکا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ غیرقانونی اور غیر آئینی ہے، پولنگ 30 اپریل کے بجائے 14 مئی کو ہوگی۔سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سنادیا گیا، عدالت عظمیٰ نے گزشتہ روز وکلاکے دلائل مکل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔



















































