ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنسز پر جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے کے لئے جسٹس فائز اور طارق مسعود نے خط لکھ دیا

datetime 3  اپریل‬‮  2023 |

کوئٹہ (این این آئی)سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج قاضی فائزعیسٰی اور جسٹس طارق مسعود نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کو خط لکھا ہے۔خط سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان، جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس امیر محمد بھٹی کو لکھا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود بھی

سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں۔خط میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا کر جج پر لگے الزامات اگر غلط ہیں تو جائزہ لیا جائے، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کے خلاف پاکستان بار نے شکایت بھجوائی، سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209کے تحت قائم کی گئی ہے۔خط میں کہا گیا کہ چیف جسٹس! ہم انتظار کررہے ہیں آپ کب جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلاتے ہیں؟ اجلاس بلا کر تعین کیا جائے جسٹس مظاہر نقوی پر الزامات درست ہیں یا غلط، اگر الزامات غلط ہیں توجج کی عزت بحال کی جائے، اگر الزامات درست ہیں تو آئین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔خط کے متن کے مطابق جج کو الزامات کے سائے میں رکھنے سے جج اور عدلیہ کی عزت پر حرف آ رہا ہے، عدلیہ کی آزادی اوراس پرعوام کے اعتماد کیلئے ضروری ہے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس فوری بلایا جائے۔خیال رہے کہ گزشہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…