جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ اپوزیشن کا پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی اِن کیمرہ بریفنگ کے بائیکاٹ کا اعلان

datetime 2  دسمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پارلیمنٹ میں موجودہ متحدہ اپوزیشن نے باہمی مشاورت اور غوروخوض کے بعد حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی اِن کیمرہ بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پارلیمان کو ربڑسٹیمپ کے طورپر استعمال کرنے کا وطیرہ اپنائے ہوئے ہے،سلیکٹڈ وزیراعظم مقبوضہ جموں وکشمیر

سمیت اہم ترین قومی معاملات پر بلائے جانے والے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے ،وہ مشاورت کی جمہوری روح، فیصلہ سازی میں مختلف آراء کی اہمیت اور مخالف نکتہ ہائے نظر کی افادیت سے نابلد ہیں، ایسے حالات میں ایسی اِن کیمرہ بریفنگ محض کسی نئے حکومتی تماشے کی راہ ہموار کرے گی ۔گزشتہ روز مشارت کے بعد متحدہ اپوزیشن نے اپنا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ 6 دسمبر 2021 کو حکومت کی جانب سے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی میں اِن کیمرہ بریفنگ دینے سے متعلق آگاہ کیاگیا تھا اور بتایاگیا تھا کہ قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف اِن کیمرہ اجلاس کو بریفنگ دیں گے۔ متحدہ اپوزیشن نے قرار دیا کہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں نے آئین، قانون، قومی سلامتی، عوامی اہمیت کے حامل تمام امور پر ہمیشہ نہایت ذمہ دارانہ اور سنجیدہ قومی طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے،یہ ہی وجہ ہے کہ قائد ایوان کی عدم موجودگی اور اہم قومی وعوامی معاملات سے قطعی لاتعلقی کے باوجود اپوزیشن

جماعتوں نے قومی سلامتی، اہم قومی معاملات پر بلائی جانے والی بریفنگز اور اجلاسوں میں نہ صرف بھرپور شرکت کی بلکہ متحدہ اپوزیشن کے قائدین اور پارلیمانی لیڈرز نے اپنی تجاویز بھی دیں۔متحدہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اہم مسودات قانون(بِلز) کو بلڈوز کرنے کے حکومتی رویے اور اہم آئینی، قانونی، قومی اور سلامتی سے متعلق امور

پر مسلسل آمرانہ وفسطائی طرز عمل کی بنائ پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس اِن کیمرہ بریفنگ کا بائیکاٹ کیاجائے۔ متحدہ اپوزیشن میں تمام وہ جماعتیں شامل ہیں جو نہایت بالغ نظر، آئین ، ملک اور عوام سے جْڑے نازک مسائل پر وسیع تجربہ اور سنجیدگی کی حامل ہیں۔ ماضی میں بھی انہوں نے ہمیشہ ملک اور عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ، نگہبانی اور فروغ کے

لئے تاریخی کردار ادا کیا ہے اور موجودہ متنازعہ دور میں بھی پاکستان اور عوام کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اپنا کردار ہر طرح کے سیاسی فروعی مفادات اور وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ادا کیا ہے تاہم یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ حکومت پارلیمان کو ربڑسٹیمپ کے طورپر استعمال کرنے کا وطیرہ اپنائے ہوئے ہے۔ اعلامیہ کے مطابق

متحدہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ پارلیمان میں اہم داخلی وخارجی، قومی اور عوامی امور کو لایا ہی نہیں جارہا اورایوان میں ان پر بحث نہیں کرائی جاتی جو آئین ، پارلیمانی تقاضوں اور جمہوری ضابطوں کے حوالے سے ایک لازمی امر ہے بلکہ پارلیمان کومسلسل نظرانداز کرکے ‘اِن۔کیمرہ’ بریفنگ سے معاملات کو چلایاجارہا ہے۔درحقیقت حکومت نے عملاً

پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کررکھا ہے جو جمہوریت میں بنیادی آئینی، قانونی اور عوامی فورم ہے۔اعلامیہ کے مطابق متحدہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت اہم ترین قومی معاملات پر بلائے جانے والے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ وہ مشاورت کی جمہوری روح، فیصلہ سازی میں مختلف آراء کی اہمیت اور مخالف

نکتہ ہائے نظر کی افادیت سے نہ صرف نابلد ہیں بلکہ قوم کی اجتماعی دانش کو ملک اور عوام کے مفاد میں بروئے کار لانے کے ہنر اور صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔اعلامیہ کے مطابق ایسے حالات میں ایسی اِن کیمرہ بریفنگ محض کسی نئے حکومتی تماشے کی راہ ہموار کرے گی جس کا ملک اور عوام کو درپیش سنجیدہ اور نہایت نازک معاملات کی

انجام دہی یا ان کے حل کی طرف پیش رفت سے کوئی سروکار نہیں۔ مزید برآں متحدہ اپوزیشن یہ بھی سمجھتی ہے کہ وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر فیصلہ سازی اور پس پردہ تمام حقائق پر متعلقہ معلومات اور اختیار سے محروم اور محض نمائشی کردار ہیں جن کی معروضات کو حقیقی عوامل اور مستقبل کے خاکے سے کوئی ربط وتعلق نہیں۔ اس تمام تناظر میں متحدہ اپوزیشن نے بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…