بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کا نیا طریقہ سامنے آگیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے ایسے پاکستانی شہری جو تاحال شناختی کارڈ حاصل نہیں کرسکے، ان کے لیے نادرا نے خصوصی طریقہ کار متعارف کرادیا ہے۔

مخصوص شرائط پر پورا اترنے والے افراد اب متبادل دستاویزات اور تصدیقی عمل کے ذریعے شناختی کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔نادرا کے مطابق یہ سہولت 31 دسمبر 2026 تک دستیاب رہے گی۔ اس اقدام کا مقصد ان شہریوں کو رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنا ہے جو پیدائش کا سرٹیفکیٹ موجود نہ ہونے کے باعث شناختی دستاویز حاصل نہیں کرسکے۔شادی شدہ خواتین کے لیے طریقہ کار:18 سال سے زائد عمر کی شادی شدہ خواتین کو درخواست کے ساتھ یونین کونسل کا جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ پیش کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کا شناختی کارڈ یا نائیکوپ بھی درکار ہوگا۔درخواست کی تکمیل کے لیے خاتون کو اپنے شوہر اور والد یا والدہ میں سے کسی ایک کے ہمراہ نادرا سینٹر جانا ہوگا، جہاں متعلقہ افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی۔اگر والد، والدہ یا شوہر میں سے کسی کا انتقال ہوچکا ہو لیکن ان کا ریکارڈ نادرا کے نظام میں موجود ہو تو ضروری سوالات اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر شناخت کی تصدیق کے بعد درخواست وصول کی جاسکتی ہے۔غیر شادی شدہ خواتین:غیر شادی شدہ خواتین کے لیے شوہر سے متعلق دستاویزات کی شرط نہیں ہوگی۔ انہیں اپنے والدین کے کوائف فراہم کرنے کے ساتھ متعلقہ بائیومیٹرک تصدیقی عمل مکمل کرنا ہوگا۔

مردوں کے لیے شرائط:24 سال سے زائد عمر کے ایسے مرد بھی اس سہولت کے اہل ہوسکتے ہیں جنہوں نے اب تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا، بشرطیکہ ان کے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ کم از کم ایک بہن یا بھائی کا شناختی کارڈ یا نائیکوپ موجود ہو۔ایسے درخواست گزار کو شناختی کارڈ رکھنے والے والد یا والدہ کے ہمراہ نادرا رجسٹریشن سینٹر جانا ہوگا۔ اگر دونوں والدین انتقال کرچکے ہوں تو شناختی کارڈ رکھنے والے بہن یا بھائی کے ذریعے شناخت کی تصدیق کروا کر درخواست جمع کرائی جاسکتی ہے۔نادرا نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ درخواست کے دوران والدین کی معلومات، تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش سمیت تمام کوائف انتہائی احتیاط سے فراہم کیے جائیں، کیونکہ ریکارڈ میں درج ہونے کے بعد یہ معلومات مستقل نوعیت کی ہوں گی اور بعد میں تبدیل نہیں کی جاسکیں گی۔متعلقہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس خصوصی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے 31 دسمبر 2026 سے قبل قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر سے رجوع کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…