بڑا اعلان ۔۔۔ عمران خان نے حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

  بدھ‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2022  |  19:15

لاہور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین و سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ممکنہ لانگ مارچ کا آغاز کہاں سے ہو گا، وقت اور جگہ کا تعین میں کروں گا، اہم کارڈ ابھی میرے سینے سے لگے رہیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین سے سے پارٹی رہنما وسیم رامے سمیت دیگر نے ملاقات کی۔عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو لانگ مارچ کے لئے ٹاسک دے دیئے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہر ضلع سے چھ،چھ ہزار لوگوں کو حقیقی آزادی مارچ میں لے کر آنا ہے، لانگ مارچ کا آغاز کہاں سے ہوگا وقت اور جگہ کا تعین میں کروں گا،لانگ مارچ کے بارے میں اہم کارڈ ابھی میرے سینے سے لگے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنی تیاری مکمل رکھے،ہر تنظیم اپنا اپنا ڈیٹا سینیٹر شبلی فراز کو بھیج دیں، ہر ضلع میں ساڑھے تین ہزار سے زائد عہدیدار ہوں گے جو مارچ میں لوگوں کو لے کر آئیں گے،تنظیموں کی جانب سے مکمل ڈیٹا ملتے ہی لانگ مارچ کی کال دے دوں گا۔اس سے قبل عمران خان کے زیر صدارت ایوان وزیر اعلی 90 شارع قائداعظم میں اجلاس ہوا، اجلاس میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی، میاں اسلم اقبال، یاسمین راشد، حماد اظہر و دیگر رہنما شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک کو کرپٹ مافیا سے بچانا ہے۔ حقیقی آزادی کی حفاظت کرنا ہے اور آزادی مارچ کے لئے جب کال دوں آپ نے باہر نکلنا ہے۔عمران خان نے اس موقع ہر ارکان سے حلف بھی لیا، سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے حلف نامہ پڑھا۔عمران خان سمیت پارٹی کی تمام قیادت اور تنظیمی عہدیداران نے حلف اٹھا یا جس میں عہد کیا گیا کہ ملک کے آئین کی سر بلندی،ملک کی سالمیت کے لئے حقیقی آزادی مارچ کے جہاد میں شرکت اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔



زیرو پوائنٹ

تیونس تمام

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎