کرونا وائرس کے حوالے سے اچھی خبر!مہلک وباء کا شکار 7116 مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے

  منگل‬‮ 2 جون‬‮ 2020  |  22:51

لاہور( این این آئی )صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے کنفرم مریضوں کی تعداد 27ہزار 850 ہو چکی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 1610 مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ صوبہ بھر میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرتے ہوئے 540 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 43اموات ہو چکی ہیں۔اب تک کورونا وائرس کا شکار 7116 مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 6371 تشخیصی


ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ اب تک پنجاب میںکورونا وائرس کے مجموعی طور پر 2لاکھ 45ہزار 544  تشخیصی ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ سب سے زیادہ مریضوں کا تعلق لاہور سے ہے جن کی تعداد 12ہزار 878 ہے۔راولپنڈی میں 2ہزار225،  گوجرانوالہ میں 1435، ملتان میں 1220اورفیصل آباد میں 1662 کنفرم مریض موجود ہیں۔ صوبہ پنجاب نے ملک بھر میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کی کنٹیکٹ ٹریسنگ کی ہے جس میں90ہزار 871افراد شامل ہیں۔ کنٹیکٹ ٹریسنگ کے نتیجہ میں کورونا وائرس کے مزید4ہزار 887مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری اجمل بھٹی اور سی ای او میوہسپتال پروفیسر ڈاکٹر اسداسلم خان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹریاسمین راشد نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کی کنٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل جاری ہے۔ کنٹیکٹ ٹریسنگ کے ذریعے کورونا وائرس کے مزید مریضوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے وسائل بارے غلط اور بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابقلاہور میںکورونا وائرس کے 119، راولپنڈی میں 113، فیصل آباد میں 16اور مظفر گڑھ میں 3مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے تشویشناک مریضوں کی مجموعی تعداد 251 ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایات کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں صوبہ بھر خصوصاً لاہور میں کورونا وائرس کے مریضوں کے اعدادوشمار کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔اس وقت لاہور کے ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد 539ہے۔ اب ہسپتالوں میں شدیدعلامات یا کورونا وائرس کے کنفرم مریضوں کو ہی رکھا جا رہا ہے۔کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا وائرس کی جانب سے محکمہ صحت پنجاب کو سمارٹ سیمپلنگ کی ہدایت کی گئی تھی جس پر محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دے کر سمارٹ سیمپلنگ کا عمل شروع کیا جس نے لاہور سمیت پورےپنجاب میں کورونا وائرس سے زیادہ سے زیادہ متاثر ہونے والے مریضوں کا اندازہ لگایا گیا۔ سمارٹ سیمپلنگ کا جائزہ لینے کے لئے ییل انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ یونیورسٹی، سینٹرفار اکنامک ریسرچ ان پاکستان، محبوب الحق ریسرچ سینٹرلمز، سینٹرفار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ہارورڈ یونیورسٹی، لندن سکول آف اکنامکس اور جارج ٹائون اور واشنگٹن کی یونیورسٹیوں کے ریسرچرز نے حصہ لیا۔ 28اپریل کو ریسرچرز کےگروپ کو سمارٹ سیمپلنگ کا مکمل جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ جس کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے 35ہزار میں سے لاہور میں صرف 21ہزار سیمپل حاصل کئے گئے۔ سیمپلنگ کے اس پورے عمل میں 6کروڑ روپے کی رقم خرچ ہوئی۔ سیمپلنگ کے مطابق لاہور میں متاثر ہونے کی شرح 5.8فیصد ہے۔ اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد لاہور کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کومزید بڑھا دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص رحم و کرم اور مہربانی کے باعث پنجاب میں اندازے سے بہت کم لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے 15مئی کو بھجوائی جانے والی سمری میں کورونا وائرس سے زیادہ سے زیادہ متاثر ہونے والے مریضوں کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 50 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان میں بہت زیادہ معاشی نقصان کے باعث زیادہ عرصہ تک لاک ڈائون نہیں کر سکتے۔ عوام کو یہ چیز سمجھنی چاہیے کہ کورونا وائرس سے بچائو کا واحد حل احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ ریسرچ کے مطابق ماسک پہننے سے 40فیصد وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے عوام میں کورونا وائرس سے متعلق آگاہی اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کے حوالے سے بہت بڑی آگاہی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کل وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پاکستانی عوام سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی خصوصی اپیل کی ہے۔ اس وقت بین الاقوامی ایئرلائنز دیوالیہ ہو چکی ہیں۔ دنیا اس وقت بہت بڑے معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔  پاکستان میں حکومت کے ساتھ مخیرحضرات نے بھی متاثرہ طبقات کی بحالی کے لئےدل کھول کر خدمت خلق میں حصہ ڈالا۔  صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو روزانہ چھ گھنٹے ڈیوٹی کر کے ایک ہفتے بعد 15دن کے لئے چھٹی دی جاتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریض کا فوری طور پر علاج شروع کر دیا جاتا ہے اور عوام سے اپیل ہے کہ کورونا وائرس کی علامات ہونےیا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد گھر رہنے کی بجائے فوری طور پر ہسپتال جائیں یا ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ اس وقت ہمارے پاس 1450 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ کسی بھی سرکاری ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ ہر مریض کا بہترین علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔پوری دنیا میں کورونا وائرس پر ریسرچ جاری ہے لیکن دنیا کا کوئی سائنسدان کورونا وائرس کے خاتمے کی حتمی ڈیڈلائن نہیں دے سکتا۔ حکومت کی جانب سے ملک میں محروم طبقات کی بحالی کے لئے سمارٹ لاک ڈائون کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حالات قابو میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی اندازے کے مطابق بہت کم تعداد ہے۔


موضوعات: