جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’ذوالفقارعلی بھٹو فیلڈ مارشل ایوب خان کو ڈیڈی بلایا کرتے تھے‘‘  بلاول بھٹو زرداری کے نانا اس طرح کس زمرے میں آتے ہیں ؟  اسکندر مرزا  کو خوشامد بھرے خط ریکارڈ پر موجود گی ، حیرت انگیز انکشاف کر دیا گیا

datetime 25  فروری‬‮  2020 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) چند ارکان اسمبلی کے سوا تمام اپنی جماعت کے طفیل پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں، ان کا رویہ بھی بتاتا ہے کہ یہ انگوٹھاچھاپ قسم کے لوگ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےسینئر صحافی و تجزیہ کار حسن نثا رنے کہا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کی ربڑ اسٹمپ سے زیادہ حیثیت نہیں ہوتی ہے، چند ارکان اسمبلی کے سوا تمام اپنی

جماعت کے طفیل پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں، ان کا رویہ بھی بتاتا ہے کہ یہ انگوٹھاچھاپ قسم کے لوگ ہیں، بلاول کے تو اپنے نانا سلیکٹڈ کے زمرے میں آتے ہیں، اسکندر مرزا کو خوشامد بھرے خط ریکارڈ پر موجود ہیں، فیلڈ مارشل ایوب خان کو بھٹو ڈیڈی بلایا کرتے تھے۔پروگرام میں موجود سینئر صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری ٹھیک کہہ رہے ہیں نواز شریف بھی سلیکٹڈ تھے ، یہ بھی سچ ہے کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ کو کبھی اہمیت نہیں دی، نواز شریف دورِ اقتدار میں جتنی دفعہ لندن گئے اس سے کم مرتبہ پارلیمنٹ میں آئے۔جبکہ ایک اور سوالے کے جواب میں  ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ بیرسٹر خالد جاوید خان نے اٹارنی جنرل بننے سے حکومت کو بتادیا تھا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیس نہیں لڑیں گے، وہ بحیثیت وکیل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں رائے میں دے چکے ہیں، خالد جاوید خان اس حق میں تھے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس نہیں بنتا تھا، یہ بھی سنا جارہا ہے کہ غیر رسمی طورپر انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کو مشورے بھی دیئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…