جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

کے الیکٹرک نے حکومت سے اربوں روپے کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر دیا،حکومت کو لکھے گئے خط کے مندرجات سامنے آ گئے

datetime 14  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) کراچی کو بجلی فراہم کرنے کی ذمہ دار کمپنی کے الیکٹرک نے صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کے ذمہ 50 ارب سے زائد کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک انتظامیہ کی جانب سے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو خط لکھ کر آگاہ کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے مختلف محکموں پر واجبات 50 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیورج بورڈ کے واجبات 33 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔

خط کے مطابق حکومت سندھ کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی کے لیے فوری اقدامات کرے کیونکہ واجبات کی ادائیگی نہ ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ واجبات نہ ملنے سے کے الیکٹرک کو دیگر اداروں کو ادائیگی میں مشکلات ہورہی ہیں۔واضح رہے کہ کراچی میں بارشوں کے دوران کے الیکٹرک کے ناقص انتظام، طویل لوڈ شیڈنگ اور اموات سے متاثرہ خاندانوں کی درخواست پر نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنی پر پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…