پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

خود کو مسلمان ثابت کرنے کیلئے نعرہ لگانے یا ثبوت دینے کے بجائے آپ یہ کام کریں،پاک فوج کاکفر کے فتویٰ دینے والوں کو کرارار جواب،پاکستانی عوام کے دل جیت لئے

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) میں بھی بنیاد پرست ہوں، مغرب ممالک اور بھارتی بھی بنیاد پرست ہیں لیکن ہر بنیاد پرست دہشت گرد نہیں اور ہر دہشت گرد بنیادپرست نہیں ہوتا، مجھے کسی کو ثبوت نہیں دینا کہ میں مسلمان ہوں، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لیے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں عمل سے ثابت کریں، ہم اسلام کے اصولوں پر عمل کریں تو دنیا ہمیں

اسلامی ملک کے طور پر پہچانے گی،ان خیالات کا اظہار ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے جامعہ کراچی میں طلبہ سے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی کا کہنا تھا کہ سوویت یونین جب افغانستان آیا تو کہا گیا اس سے اسلام کو خطرہ ہے، امریکا کی مدد سے سوویت کو افغانستان سے نکالا تاہم نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا، امریکہ سے لڑنے والوں کو وہاں پناہ نہیں ملی تو پاکستان آگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم نے آپریشن ضرب عضب کامیابی سے مکمل کیا، ہم نے مرحلہ وار اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا اور آج پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔اگر میں چاہوں کہ سب لوگ دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلاؤں گا، جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلاؤں گا۔ میں مسلمان ہوں، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لیے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں عمل سے ثابت کریں، ہم اسلام کے اصولوں پر عمل کریں تو دنیا ہمیں اسلامی ملک کے طور پر پہچانے گی۔ پاکستان اللہ کا تخلیق کردہ سب سے خوبصورت ملک ہے، اللہ نے اسےدنیا کی ہر نعمت سے نوازاہے یہاں ہر موسم ، پھل دریا ،پہاڑ ،صحرا سب موجود ہیںجغرافیائی

لحاظ سے بھی پاکستان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کے لیے اس کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ جامعہ کراچی آیا ہوں، یہاں آکر لگا کہ خواتین کی یونیورسٹی میں آگیا ہوںکیونکہ یہاں خواتین طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔میں نے جامعہ میں طالبات کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ بھی یونیورسٹی کے وی سی سے پوچھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…