جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

من پسند عہدوں کے مطالبات ، وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ کے بعد ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم عمران خان کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایک اور بڑا چیلنج درپیش ہے۔ میڈیارپورٹس مطابق وزیراعظم عمران خان پر سینیٹ الیکشن کے بعد اتحادیوں کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین اور مزید وزارتیں دینے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ انتہائی قریبی رفقاء سے مشاورت شروع کردی ہے۔ تاہم اتحادیوں کی بات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کی لابنگ مشکل ہوجائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی اتحادیوں کو آفرز شروع کردی ہیں۔ رپورٹس مطابق حکمران جماعت اور اتحادی نمائندوں کے مابین بھی وزارت پر مسابقت شروع ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نومنتخب سینیٹر بیرسٹر علی ظفر فروغ نسیم کی جگہ وزیر قانون بنائے جانے کے خواہش مند ہیں جب کہ فروغ نسیم وزارت قانون کے قلمدان کے سوا کوئی اور عہدے کے متمنی نہیں۔ بیرسٹر علی ظفر کو وزیر پارلیمانی امور بنانے کی پیش کش کی گئی ہے جسے نومنتخب سینیٹر نے قبول نہیں کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک مرتبہ پھر وزارت کے مطالبے کے بعد ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ مانگ لیا ہے۔ وزیراعظم کے قریبی رفقاء کی فروغ نسیم کو بطور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ دے کر سب کو راضی کرنے کی تجویز دی جارہی ہے۔ جب کہ فروغ نسیم نے وزارت قانون کے سوا کوئی اور قلمدان نہ سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کو بطور وزیر قانون وزیراعظم کا اعتماد بھی حاصل ہے اور عمران خان ان کی کارکردگی سے بھی مطمئن ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کو

پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی بڑی پیش کش کی گئی ہے۔ اگر حکومت سے بات نہ بنی تو ایم کیو ایم نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کاعندیہ بھی دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم قیادت فیصل سبزواری کو ڈپٹی چئیرمین سینیٹ یا ایم کیو ایم کے کوٹہ کا وزیر بنانے کی خواہاں ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر طویل مشاورت شروع کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…