کورونا کا مقابلہ کرنے کیلئے تعمیراتی صنعتوں کو مراعات دیں گے، لاک ڈاؤن نہیں کریں گے کیونکہ یہاں غریب لوگ ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اعلان کر دیا

  جمعہ‬‮ 20 مارچ‬‮ 2020  |  18:55

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر ملک کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے قوم اور میڈیا سے درخواست کی ہے کہ افرا تفری نہ پھیلائیں کیونکہ افرا تفری اس ملک میں وہ نقصان پہنچا سکتی ہے جو کورونا بھی نہیں پہنچائے گا،پھیلائو میں اضافہ ہوا تو مکمل لاک ڈائون پر بھی غور کیا جائے گا ،فی الوقت پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا،چینی قیادت کی بہترین حکمت عملی کے باعث چین سے پاکستان میں کورونا کا ایک بھی کیس نہیں آیا،کورونا کے معاملے کی روزانہ


کی بنیاد پر مانیٹرنگ کریں گے اورچین کے تجربات سے استفادہ حاصل کریں گے ،جو بھی صورتحال ہوگی عوام کے سامنے رکھیں گے، تفتان صورتحال پر وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت کسی کو موردالزام ٹھہرانا درست نہیں،عالمی برادری کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث ایران پر عائد پابندیاں فوری اٹھانی چاہئیں ، اگر ہم سب نے پریشان ہو کر کھانے پینے کی چیزیں خریدنا شروع کردیں تو چیزوں کی قلت ہو جائیگی، اگر سب لوگ بھاگے بھاگے سپر مارکیٹ جائیں گے تو کوئی بھی حکومت کچھ نہیں کر سکتی، چار سے پانچ فی صد مریضوں کو اگر انتہائی نگہداشت کی ضرورت پیش آئی تو صورت حال خراب ہوگی اس کا مقابل کرنے کے لیے تیاری کررہے ہیں،کورونا وائرس نمٹنے کے لیے قوم کو متحد ہونا ہوگا ،اگلے ڈیڑھ ماہ میں خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا،معاشی سرگرمیوں میں تعطل کی وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے مقابلے کیلئے منگل کو معاشی پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔وہ جمعہ کو یہاں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں اظہار خیال کررہے تھے ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین این ڈی ایم اے بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ وہ ہر وقت اسلام آباد میسر ہوں اور کوئی چھٹی نہیں کریگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال کا یومیہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین آغاز میں صورتحال پر قابو نہ پاتا توبہت بڑی تباہی پھیل سکتی تھی تاہم جس حکمت عملی کے ساتھ اس نے اقدامات اٹھائے وہ قابل تعریف ہیں، چین کے تجربات سے بھی سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ میں دو بار عوام کو کورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ کروں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 15 جنوری کے بعد چین کی حکومت سے مسلسل رابطہ میں ہیں، چینی قیادت کی بہترین حکمت عملی کے باعث چین سے پاکستان میں کورونا کا ایک بھی کیس نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ قم سے زائرین کی آمد کے بعد ایران سے مسلسل رابطہ میں ہیں، ابتداء میں تفتان میں ضروری سہولیات کا فقدان تھا، ڈاکٹر ظفر مرزا خود تفتان گئے اور واپسی پر صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ تافتان میں زائرین کی اسکریننگ کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی، اسکے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر سہولیات فراہم کیں اوران سہولیات کی فراہمی بہت مشکل کام تھا۔وزیر اعظم نے کہاکہ تفتان صورتحال پر وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت کسی کو موردالزام ٹھہرانا درست نہیں، ایران میں طبی سہولیات کے فقدان کے باعث کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا، عالمی برادری کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث ایران پر عائد پابندیاں فوری اٹھانی چاہئیںکیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ وہ اتنی بڑی وبا سے نمٹ رہے ہیں اور ان پر یہ پابندیاں لگائی جائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ چین کو میں داد دیتا ہوں کہ کیونکہ ہمارے موجود طلبہ کے والدین کی وجہ سے ان پر بہت دباؤ تھا کہ ان کو پاکستان لایا جائے لیکن انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ہم ان کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھ رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ میں چین کو اس لیے بھی داد دوں گا کہ پاکستان میں ایک بھی کیس چین سے نہیں آیا جو ان کی تنظیمی صلاحیت اور اس کیافادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عمران خان نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اس وائرس سے دو بڑے خطرے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر یہ یورپ کی طرح یکدم پھیلتی ہے تو 4 سے پانچ فیصد ہسپتالوں کو آئی سی یو کی ضرورت پڑے گی اور اگر تعداد بڑھ جاتی ہے تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ اٹلی میں انہیں اسٹاف نہیں مل رہا ، نرسز نہیں مل رہیں، ڈاکٹرز نہیں مل رہے اور سب سے بڑھ کر آئی سی یو وینٹی لیٹرز نہیں مل رہےلہٰذا ہمیں خوف یہ ہے کہ اگر ایک اٹلی کی طرح تیزی سے کیسز بڑھے تو ہمارے لیے بہیت مشکل ہو جائے گا۔وزیر اعظم نے قوم کے نام پیغام میں کہا کہ لفظ استعمال کیاجا رہا ہے social distancing(سماجی فاصلہ) یہ بہت ضروری ہے، اس سے بچنے کے لیے عوام کو خود منظم اور ڈسپلن ہونا پڑے گا جو ہمیں اس مشکل مرحلے سے نکالے گا۔وزیر اعظم نے کہاکہ تافتان سے آنے والے کیسز کے علاوہ پاکستان میںاب تک یہ وائرس قابو میں ہے اور ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں، اگر ڈیڑھ مہینے تک عوامی مقامات تک نہ جائیں اور اگر کسی میں بہماری کی علامات ظاہر ہوں تو وہ خود محدود(قرنطینہ) کر لے اور یہ ہسپتال جانے سے زیادہ ضروری چیز ہے کیونکہ 90فیصد لوگوں کو ہسپتال کی ضرورت نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ اگر لوگ خود کو گھروں میں محدود کر لیں گے تو اس کے بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں،ہم نے دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے کہ یہ اس سے نمٹنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ اس جہاد میں پہلے کی صفوں میں ہمارے محکمہ صحت کے ڈاکٹرز، نرسز وغیرہ ہوں گے کیونکہ انہیں ہی اس سے لڑنا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے لیے کٹس آ جائیں، ان کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم چیزیں فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ دوسرا خطرہ اس سے بھی بڑا ہےاور وہ یہ کہ معاشرے میں افرا تفری پھیل جائے، خوف کی فضا پیدا ہو جائے اور اس کے اندر میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔انہوں نے میڈیا مالکان سے اپیل کی کہ ہمارے تبصرہ نگار، اینکرز اور صحافی وغیرہ کا اکثر سنسنی خیز خبروں اور بریکنگ نیوز پر بڑا زور ہوتا ہے اور میڈیا ریٹنگ کی وجہ سے یہ بات سمجھ بھی آتی ہے لیکن ان حالات میں ہم پیمرا کو ہدایات جاری کریں گے کیونکہ یہ افرا تفری اس ملک میںوہ نقصان پہنچا سکتی ہے جو کورونا بھی نہیں پہنچائے گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ اگر ہم سب نے پریشان ہو کر کھانے پینے کی چیزیں خریدنا شروع کردیں تو چیزوں کی قلت ہو جائے گی، اگر سب لوگ بھاگے بھاگے سپر مارکیٹ جائیں گے تو کوئی بھی حکومت کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اگر کھانے پینے کی چیزیں غائب ہو گئیں اور چیزوں کی قیمتیں آسمانوں پر چلی گئیں تو اس کا حکومت کیا کرے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ کورونا وائرس کا گلے ایک مہینے، دو مہینے یا 6 مہینے میں کیا صورتحال ہو گی، بہت ضروری ہے کہ ہم پورا معاشرہ مل کر اس وائرس کا سامنا کریں، کورونا وائرس سے وہ کوئی حکومت نہیں جیت سکتی، قوم جیت سکتی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارا وفد چین کے صدر سے ملا تو انہوں نے اپنی قوم کو داد دی، ایک قوم نے مل کر وہ کیا ہے جو مغرب کےملک اس طرح نہیں کر سکے تاہم ایک قوم کے ڈسپلن، ایک لیڈرشپ نے مل کر اسے شکست دی۔وزیراعظم نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں، آگے آنے والے دنوں میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کہاں تک پہنچ سکتا ہے لیکن میڈیا کا اس میں بہت بڑا کردار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے پر دو حکمت عملی سامنے آ رہی ہیں، ایک حکمت عملی سندھ حکومت نے کراچی کو لاک ڈاؤن کر کےاپنائی ہے اوردوسری ہماری اسٹریٹیجی ہے اور دونوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے ہیں، انہیں جمع نہ ہونے دیا جائے مثلاً کرکٹ میچ ختم کردئیے، اسکول، یونیورسٹیز، سینما اور کہیں بھی اجتماع نہ ہو کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ وائرس کیسے پھیلتا ہے تاہم انہوں نے سندھ حکومت کی طرح مکمل لاک ڈاؤن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماریصورتحال اٹلی جیسی نہیں کیونکہ ان کی فی کس آمدنی ہم سے بہت زیادہ ہے لہٰذا ہم پورا ملک لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ہاں چھابڑی والے، چھوٹے دکاندار اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے بیلچا لے کر انتظار کررہے ہیں کہ ہمیں کام ملے تواگر ہم پورا لاک ڈاؤن کر دیتے ہیں تو ہمیں خوف ہے کہ ایک، دو ہفتے، تین یہ لوگ کیا کریں گے، کیا ہمارے پاس اس طرح کی سہولیات ہیں کہ ہم ان سب تک پہنچ سکیں؟۔عمران خان نے کہاکہ میں منگل کو تعمیراتی صنعت کو خصوصی مراعات دینے کا اعلان کروں گا اور اس کا مقصد لوگوں کو نوکریوں کے مواقع فراہم کرنا ہے، ہمارے پاس اس طرح کی سہولیات نہیں ہیں لہٰذا ایسا نہ ہو کہ ہم لوگوں کو کورونا سے بچانا چاہیں اور وہ بھوک و افلاس سے مر جائیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ لاک ڈاؤن سے ہمارے محکمہ صحت بھی متاثر ہو ا کہ ہسپتالوں کو اشیا کی فراہمی مشکل ہو جائے گی اور پھر ڈاکٹرز،نرسز اور دیگر عملے کو کام پر جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکا جائے اور عوام سے مطالبہ کیا کہ خود ڈسپلن کا مظاہرہ کریں اور ان جگہوں پر نہ جائیں جہاں عوام موجود ہیں۔وزیر اعظم نے منگل کو وائرس سے مقابلے کے لیے ایک معاشی پیکج کا اعلان بھی کیا جس میں ہر صنعت کو تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اس کشمکش کی صورتحال کا مقابلہ کر سکیں اور ہم انہیں کوروناوائرس کے منفی اثرات سے بچا سکے۔


موضوعات: