پمزہسپتال میں کورونا کی مشتبہ 5 خواتین منتقل، 2دن پہلے ہی ایران سے پہنچیں ، تعلق پاکستان کے کس علاقے سے ہے؟تفصیلات سامنے آگئیں

  جمعرات‬‮ 27 فروری‬‮ 2020  |  13:30

اسلام آباد(این این آئی)پمزہسپتال میں کورونا کی مشتبہ 5 خواتین منتقل کر دی گئیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پانچوں خواتین کا تعلق گلگت ہنزا سے ہے ،خواتین دو دن پہلے ایران زیارات کے بعد پاکستان پہنچی ہیں ،پانچوں خواتین کو شک کی بنیاد پر پمز لایا گیا ،عورتوں کا تعلق کریم آباد ہنزا سے ہے۔کرونا وائرس کی مشتبہ خواتین کے نام نرگس ، بیگم، عابدہ، بی بی راحیل اور مریم ہیں۔دریں اثناسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کرونا وائرس کی پاکستان میں دو کیسز کی تصدیق ہونے پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم فوری طور


پر کرونا وائرس پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی و چیف سیکرٹریز کا اجلاس طلب کریں،پاکستان میں داخل ہونے والے تمام افراد کی سکریننگ کا عمل شروع کیا جائے، کسی بھی ملکی و غیرملکی کو بغیر سکرینگ کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے، ایران اور چائینہ سے آئے ہوئے افراد ہسپتالوں سے اپنا معائنہ کروائیں۔ جمعرات کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس سینٹر رحمان ملک کی زیر صدارت ہوا جس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے سربراہ ڈاکٹر میجر جنرل عامر اکرام بھی موجود تھے ۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہاکہ 27فروری کے دن بھارت نے ہم پر جارحیت کرتے ہوئے ابھینندن کو بھیجا تھا،ہم اپنی مسلح افواج کو سراہتے ہیں۔ اجلاس میں کرونا وائرس کی پاکستان میں دو کیسز کی تصدیق ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو کرونا وائرس کی فوری روک تھام کیلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری کر دیں ۔سینیٹر رحمن ملک نے کہاکہ کرونا وائرس کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتا ہوں و فوری اقدامات کی اپیل کرتا ہوں، حکومت تمام ائیرپورٹ، بندرگاہوں و تمام انٹری پوائنٹس پر ایمرجنسی کا نفاذ کرے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ پاکستان میں داخل ہونے والے تمام افراد کی سکریننگ کا عمل شروع کیا جائے، کسی بھی ملکی و غیرملکی کو بغیر سکرینگ کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے، ایران اور چائینہ سے آئے ہوئے افرادسے اپیل ہے کہ ہسپتالوں سے اپنا معائنہ کروائے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ جو افراد ایران اور چین سے قریب ماضی میں آئے ہیں فوری طور پر اپنے ٹیسٹ کروائے، یہ ایک تشویشناک قومی مسئلہ ہے اور ہم سب کو سیاست سے بالاتر یکجا ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ ایک قومی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ایران و چائینہ سے آئے ہوئے افراد کی فہرست بنا کر انکا طبی معائنہ کروائے، کرونا وائرس کے روک تھام کیلئے ایف آئی اے نے وزارت صحت کیساتھ ملکر ایئرپورٹ و انٹری پوائنٹس پر کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔رحمن ملک نے کہاکہ جب کوئی خطرناک مرض پیدا ہو جائے تو یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ائیرپورٹ سی پورٹ پر جو فورسز کام کررہی ہیں انہیں کرونا وائرس سے بچنے کے لئے ماسک فراہم کرنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ایران سے آنیوالے زائرین کے طبی معائنے کی ضرورت ہے، ہمارے دوست ملک ایران میں کرونا وائرس آچکا ہے،ایران کے اپنے وزیر صحت کو یہ بیماری لگی ہے۔ رحمان ملک نے کہاکہ ایران سے آنے والے ساڑھے سات ہزار زائرین پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میری ایران سے آنیوالے ساڑھے سات ہزار زائرین سے اپیل ہے کہ وہ قریبی ہسپتال میں اپنا چیک آپ کرائیں۔وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہاکہ چائنا نے 6 دن میں ہسپتال بنایا ہمیں 50 سال لگیں گے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہاکہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ رحمن ملک نے کہاکہ امریکہ برطانیہ سمیت دنیا کے 30 ممالک میں یہ وائر س پہنچ چکا ہے،ہم اس گھڑی میں چین کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ رحمان ملک نے کہاکہ ہمارے ہاں مریض ایران سے آئے لیکن چین سے کوئی نہیں آیا۔ اجلاس میں میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہاکہ ہم نے اس حوالے سے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ہم نے 21 جنوری کو کام کا آغاز کیا تھا اور ابھی تک جاری ہے۔ ڈاکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے کہاکہ کرونا وائرس کے بارے میں گذشتہ رات سے پندرہ ہزار فون کالز آچکی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چین سے جتنے لوگ پاکستان آئے ہیں ان کو چیک کیا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم ایران سے آنیوالوں کو چیک کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کرونا میں وہان سے یہ وائرس نکلا ۔سربراہ این آئی ایچ نے کہاکہ اس وقت 28 ہزار پاکستانی چین میں ہیں،وہان میں 620 پاکستانی ہیں۔ ڈاکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے کہاکہ ایران کے شہر قْم میں کرونا موجود ہے وہاں 5 ہزار پاکستانی طلبہ اور چار سو عام شہری مقیم ہیں۔ سربراہ این آئی ایچ نے کہاکہ چین میں ہمارے چھ بچے متاثر ہوئے تھے تمام کے تمام تندرست ہو گئے۔ڈاکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے کہاکہ ایران کرونا وائرس پھیلنے کا جائزہ لیا جارہا ہے،ہم نے کرونا کے حوالے سے ایک جامعہ پلان تیار کر رکھا ہے۔ سربراہ این آئی ایچ نے کہاکہ ہم دو ماہ سے اس پر کام کررہے ہیں ہم سوئے نہیں۔ سربراہ این آئی ایچ نے کہاکہ ہمیں ایرا کے حوالے سے جو ڈیٹا ملا ہے اسے وزارت داخلہ کے حوالے کریں گے۔ کمیٹی نے کہاکہ وزیر اعظم فوری طور پر کرونا وائرس پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی و چیف سیکرٹریز کا اجلاس طلب کریں۔ رحمن ملک نے کہا کہ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات لینے ہونگے، تین ہسپتالوں کے ڈاکٹرز کو اب تک این 95 ماسک مہیا نہیں کئے گئے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ اگر ڈاکٹرز و دیگر طبی عملے کے پاس این 95 ماسک نہین ہیں تو وہ کیسے علاج کر سکیں گے؟ وزارت داخلہ و وزارت صحت ہر ہسپتال کے عملے کو فوری طور پر این 95 ماسک مہیا کرے۔


موضوعات: