پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا سزا چیلنج کرنے کا فیصلہ

datetime 11  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے سنائی گئی سزا کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے تصدیق کی ہے کہ موکل کی جانب سے اپیل فائل کرنے کی ہدایات انہیں پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں۔وکیل کے مطابق حکم نامے کی نقل اور دیگر متعلقہ عدالتی ریکارڈ کے حصول کے لیے جلد ہی ملٹری کورٹ میں درخواست دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق سزا کے چالیس دن کے اندر اپیل کرنا لازمی ہے، اس لیے مقررہ مدت کے اندر اپیل دائر کر دی جائے گی۔اس سے قبل آئی ایس پی آر نے اعلان کیا تھا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے فیض حمید کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ فوج کے مطابق ان پر چار سنگین الزامات ثابت ہوئے جن میں سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اور کچھ افراد کو غیر قانونی طور پر نقصان پہنچانا شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق کورٹ مارشل کی کارروائی 12 اگست 2024 کو شروع ہوئی اور تقریباً پندرہ ماہ تک جاری رہی۔ سزا کا باضابطہ اطلاق 11 دسمبر 2025 سے ہوگا۔

فوجی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے دوران تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور ملزم کو اپنی مرضی کی دفاعی ٹیم رکھنے سمیت مکمل قانونی حقوق فراہم کیے گئے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق فیض حمید کو حاصل ہے، جب کہ سیاسی عدم استحکام اور دیگر مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق پہلوؤں کی تحقیقات علیحدہ طور پر جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…