یہ 9 ،9 منزلہ عمارتیں گرانے فوری گرا دیں جائیں  ایک ایک فلیٹ کتنے کروڑوں کا بیجا گیا ، آپ آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں مسائل بہت سنگین ہو گئے ، بلند و بالا عمارت فوری طور پر گرائیں اور وہاں پر کس چیز کا قیام عمل میں لائیں ؟ چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 7 فروری‬‮ 2020  |  12:27

کراچی(این این آئی) سپریم کورٹ نے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں قائم غیر قانونی عمارتیں گرانے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ بلندو بالاعمارتیں گرائیں ،پارک بنادیں، شہری حکومت، سندھ حکومت اور وفاق بھی ناکام ہوچکے ہیں، اب کس کو عدالت میں بلائیں، کراچی میں مسائل بہت سنگین ہوگئے ہیں، شہر قائد میں سرکاری زمینوں پر قبضے، ان پر عمارتوں اور کالونیاں بنانے سمیت دیگر معاملات پر سماعت کےدوران عدالت نے ڈائریکٹر لینڈ کنٹونمنٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ لوگ آنکھیں بند کرکے چلتے ہیں؟ آپ کو پتہ بھی ہے کنٹونمنٹ ہوتا کیا ہے؟،دوران


چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈی ایچ اے لیزنگ کا جائزہ لیں تو پورا ڈی ایچ اے فارغ ہوجائے گا اور ساتھ میں بھی فارغ ہوجائوں گا، کراچی کے علاقے طارق روڈپر کسی دور میں صرف 2 ہوٹل اور ایک بینک ہوتا تھا، اب بہادر آباد، سندھی مسلم، پنجاب کالونی، ایف بی ایریا، پی این ٹی اور دیگر کالونیوں کا حال کیا ہے؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 9، 9 منزلہ عمارتیں بن رہی ہیں، ان سب کو گرائیں،پی این ٹی کالونی میں بلند عمارتیں غیرقانونی بن رہی ہیں، وفاقی ملازمین کے کوارٹرزکی جگہ عمارتوں کی اجازت کون دے رہا ہے،عدالت نے غیر قانونی ملٹی اسٹوریز بلڈنگز گرا کرپی این ٹی کالونی کو اصل شکل میں بحال کرنے کا بھی حکم دے دیا۔جمعہ کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بینچ نے شہر قائد میں سرکاری زمینوں پر قبضے، ان پر عمارتوں اور کالونیاں بنانے سمیت دیگر معاملات پر سماعت کی، اس دوران اٹارنی جنرل فار پاکستان انور منصور خان، کنٹومنٹ بورڈ کے افسران، صوبائی حکومت کے نمائندے و دیگر حکام پیش ہوئے۔سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا کہ کنٹونمنٹ قوانین میں رہائشی علاقوں میں کتنی منزلہ عمارت بن سکتی ہے، ساتھ ہی عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل سے پوچھا کہ پی این ٹی کالونی میںبلند و بالا عمارتیں کس کی اجازت سے تعمیر ہوئیں؟ْ۔جس پر کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام نے بتایا کہ رہائشی علاقوں میں گرائونڈ پلس ون کی اجازات ہے جبکہ کمرشل علاقوں میں زیادہ سے زیادہ 5 منزلہ عمارت کی تعمیر کی اجازات ہے۔اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں، آپ انگریزی بول کر ہمارا کچھ نہیں کرسکتے، کیا ہمیں معلوم نہیں کیا حقیقت ہے،کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کیا اپنی پوزیشن واضح کر سکتا ہے۔جس پر وکیل نے بتایا کہ دہلی کالونی میں گرائونڈ پلس ون کی اجازت ہے، اس پر عدالت نے کہا کہ کس نے کہا کہ دہلی کالونی رہائشی علامہ ہے؟ لگتا ہے آپ دہلی کالونی گئے ہی نہیں ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ اپنی انگریزی سے ہمیں خوش نہیں کرسکتے، اسی دورانن ڈائریکٹر لینڈ کنٹونمنٹ نے بتایا کہ پی این ٹی کالونی میںعمارتیں غیرقانونی طور پر تعمیر ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایک ایک فلیٹ آپ نے 5 کروڑ روپے کے فروخت کیے اور اب کہتے ہیں کہ غیرقانونی تعمیرات ہیں۔عدالت نے ڈائریکٹر لینڈ کنٹونمنٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ لوگ آنکھیں بند کرکے چلتے ہیں؟ آپ کو پتہ بھی ہے کنٹونمنٹ ہوتا کیا ہے؟۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیئے کہ ڈی ایچ اے لیزنگ کا جائزہ لیںتو پورا ڈی ایچ اے فارغ ہوجائے گا اور ساتھ میں بھی فارغ ہوجائوں گا۔سماعت کے دوران ہی عدالت نے کراچی کے علاقے طارق روڈ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی دور میں طارق روڈ پر صرف 2 ہوٹل اور ایک بینک ہوتا تھا، اب بہادر آباد، سندھی مسلم، پنجاب کالونی، ایف بی ایریا، پی این ٹی اور دیگر کالونیوں کا حال کیا ہے؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 9، 9 منزلہ عمارتیں بن رہی ہیں، ان سب کو گرائیں،'اٹارنی جنرل صاحب، ان علاقوں میں بھی عمارتوں کو گرانا پڑے گا۔ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ پنجاب کالونی، دہلی کالونی، پی این ٹی کالونی میں غیرقانونی تعمیرات اور گزری روڈ پر بھی غیرقانونی عمارتیں گرادیں۔سماعت کے دوران دہلی کالونی اور پنجاب کالونی میں تجاوزات کے معاملے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان علاقوں میں تعمیرات کیسے ہورہی ہیں، جس پر کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام نے کہا کہہم نے ایکشن لیا ہے، کارروائی کر رہے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ بتائیں، یہ تعمیرات ہوئیں کیسے، اجازت کس نے دی، اٹارنی جنرل صاحب، کنٹونمنٹ بورڈ میں ایسی تعمیرات کی اجازت کون دے رہا ہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا بہت سے مقدمات زیرسماعت ہیں حکم امتناع تک کیسے گراسکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ توایسے ہی چلتارہے گاآپ کوسخت ایکشن لیناہوگا،اے جی صاحب پوری کالونی ہی میں غیرقانونی تعمیرات ہورہی ہیں۔چیف جسٹس نے حکم دیا آپ بلندوبالاعمارتیں گرائیں اورپارک بنادیں، پولیس والوں کی گاڑی کھڑی کرکے سب بن جاتاہے، چلیں، آپ صرف سرکاری کوارٹرز رہنے دیں، باقی سب گرائیں۔،اٹارنی جنرل نے کہاکہ ان بلندوبالاعمارتوں کوحکومت استعمال کرسکتی ہے تو چیف جسٹس نے کہاکہ نہیں اٹارنی جنرل صاحب،یہ سب غیرقانونی ہے،سب گرائیں۔عدالت نے دہلی،پنجاب کالونی پرکلفٹن کنٹونمنٹ بورڈسے جواب طلب کر لیا، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈحکام نے بتایا دہلی اورپنجاب کالونی وفاقی حکومت کی زمین ہے، جس پرجسٹس سجادعلی شاہ نے کہاکہ کنٹونمنٹ بورڈہرقسم کی عمارتوں کی اجازت دے رہاہے، 60 گز کے اوپر9، 10منزلہ عمارت بنانے کی اجازت دی جارہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا ایسا نہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈجس طرح چاہے عمارتوں کی اجازت دے ،کیا آپ کی حکومت چل رہی ہے جواپنی مرضی سے کام کریں، جس پر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹرنے کہاکہ ہم نے بہت سی عمارتیں گرائی ہیں، رہائشی پلاٹ پرگرائونڈپلس ٹوکی اجازت ہے، کمرشل پلاٹس پر5منزلہ عمارت کی اجازت دے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈکے ڈائریکٹرکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں، آپ انگریزی بول کر ہمارا کچھ نہیں کرسکتے،کیا ہمیں معلوم نہیں کیا حقیقت ہے، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کیا اپنی پوزیشن واضح کر سکتاہے، 5 ،5 کروڑ کے فلیٹ بک رہے ہیں، آپ لوگوں نے خزانے بھرلئے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ لوگوں سے پیسے لے لے کر اپنے خزانے بھررہے ہیں، آپ کے دفترکی ناک کے نیچے یہ سب ہورہاہے، عدالت نے ڈائریکٹر لینڈ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے کہا یہ کوثرمیڈیکل اور اس کےبرابرمیں کیسے بڑی عمارتیں بن گئیں، آخرکنٹونمنٹ بورڈمیں کس کی اجازت سے سب ہورہا ہے، ڈائریکٹرکلفٹن کنٹونمنٹ بورڈز نے تسلیم کیا کہ بہت سی عمارتیں غیر قانونی ہیں۔جسٹس گلزار احمدنے کہاکہ سرکاری زمین آپ پربھروسہ کرکے دی گئیں،کرکیارہے ہیں، وہاں کنٹونمنٹ تونہیں رہااب وہاں تواورہی کچھ بن گیا، جس پر ڈائریکٹر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈز نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ بہت سی عمارتیں غیر قانونی ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری زمین آپ پر بھروسہ کرکے دی گئی، آپ کر کیا رہے ہیں، وہاں کنٹونمنٹ تو نہیں رہا اب وہاں تو اور ہی کچھ بن گیا۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی این ٹی کالونی میں وفاقی اداروں کے ملازمین کے کوارٹرز ہیں، کوارٹرز اپنی جگہ پر رہیں گے لیکن ہم غیر قانونی تعمیرات کو ختم کرائیں گے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت کیزمین پر قائم تمام غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کرایا جائے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شہری حکومت، سندھ حکومت اور وفاق بھی ناکام ہوچکے ہیں، اب کس کو عدالت میں بلائیں، کراچی میں مسائل بہت سنگین ہوگئے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کچی آبادیوں کے رہائشیوں کے لیے ملٹی اسٹوری بلڈنگ بناکر وہاں منتقل کیا جائے۔اسی دوران جسٹس فیصل عرب نےاٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا آپ کو ملائیشیا فارمولے کا پتہ ہے؟ کوالالمپور کو کیسے صاف کیا گیا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم سندھ حکومت، کنٹونمنٹ و دیگر حکام کے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل بنا لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لائنز ایریا کی کچی آبادیاں ختم کریں، یہ قائد اعظم کے مزار کے پاس جھومر کی طرح لٹکی ہوئی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے مزار کے پاس فلائی اوور نہیں ہونا چاہیے تھا۔مزید برآں یہ ریمارکس بھی سامنے آئے کہ شاہراہ قائدین کا نام تبدیل کرکے کچھ اور رکھیں۔


موضوعات: