کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا،کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے،اب ہم کیا کرنیوالے ہیں؟وزیراعظم عمران خان نے بڑا اعلان کردیا

  جمعرات‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2019  |  20:34

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری پوری توجہ معیشت مستحکم کرنے پر ہے، ہماری حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا ہے، کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے اور جن سے کرپشن شروع ہوئی وہ تو باہر چلے گئے ہیں، ای گورننس کرپشن ختم کرنے کا بہترین طریقہ اور ہمارے لیے بہت ضروری ہے، ڈیجیٹلائزیشن سے عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے گی،ڈیجیٹل پاکستان سے نوجوان آبادی ہماری طاقت بن جائے گی،پھر کہتا ہوں ملکی معیشت درست کام کررہی،آپ نے گھبرانا نہیں،امہ کو اکٹھا کرنے میں کردار ادا کریں گے اور


اپنی پوری صلاحیتیں بروئیکارلائیں گے۔جمعرات کو ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے اجرا کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں وزیر اعظم نے اس پروگرام کا آغاز کیا اور اس موقع پر ڈیجیٹل ویژن پاکستان کی سربراہ ڈاکٹر تانیہ ادریس، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، جہانگیر ترین اور وفاقی کابینہ کے اراکین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے ڈیجیٹل پاکستان پر پہلے توجہ دینی چاہیے تھی کیونکہ یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے بہت اہم ہے، دنیا اس طرف جارہی ہے لیکن ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہماری پوری توجہ ڈیجیٹل پاکستان منصوبے پر ہو گی جس کے ذریعے ہم نوجوانوں کی صلاحیتیں دنیا بھر کے سامنے لائیں گے اور اس ایک چیز سے ہماری نوجوان آبادی ہمارے لیے طاقت بن جائے گی کیونکہ ہمارے پاس دنیا میں دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے، یہ ہمارے لیے بہت بڑا موقع ہے اور ہم اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے اوورسیز پاکستانیوں کا اندازہ ہے کہ ان کے بیرون ملک جانے کی کیا وجہ ہوتی ہے، ان کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے خاندان کو پالیں، انہیں اچھی تعلیم دیں لیکن پھر وہ اپنی زندگی میں عجیب مخمصے کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن ان کے بچے وہاں کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ پاکستان آنا نہیں چاہتے لہٰذا اس صورت میں وہ وہیں پھنس جاتے ہیں۔وزیر اعظم نے خصوصی طور پر اوورسیز پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو زندگی میں ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے، یہ آپ اپنے آپ سے سوال پوچھتے ہیں اور جو اس کا صحیح جواب دیتے ہیں وہی لوگ دنیا میں اوپر بھی جاتے، عزت بھی ہوتی، ان کے دل میں سکون بھی ہوتا ہے لیکن جو لوگ غلط فیصلہ کر لیتے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتی کہ زندگی کا کیا مقصد ہے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس موقع پرانہوں نے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ تانیہاور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تانیہ گوگل کے لیے کام کر رہی تھیں اور پتہ نہیں کتنے پیسے لے رہی تھیں، مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ ان کی تنخواہ کے چیک میں زیرو کتنے تھے جبکہ رضا باقر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے لیے کام کررہے تھے جہاں ان کی ریٹائرمنٹ زیادہ دور نہیں تھی اور انہیں آئی ایم ایف کی پنشن بھی ملتی لیکن ان دونوں نے مشکل فیصلے کیے۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ مشکل فیصلے کرتے ہیں کیونکہ آپ بوڑھے ہی تب ہوتے ہیںجب زندگی سے مزاحمت اور چیلنجز ختم ہو جاتے ہیں، جس دن چیلنج ختم، اس دن زندگی ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ انہیں دکھ رہا ہوتا ہے کہ یہاں مشکل حالات ہیں، کرپشن ہے، کام کرنے جاؤں گا تو اس سسٹم میں کیسے چلوں گا اور وہاں آسان زندگی ہوتی ہے لہٰذا اکثر لوگوں نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی لیکن جب مشکلات آئیں تو وہ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔اس موقع پر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہکسی بھی پیغمبر کی زندگی آسان نہیں تھی، ان سب نے مشکل راستہ اختیار کیا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامیاب بزنس مین تھے لیکن آخر انہیں کیا ضرورت تھی کہ وہ مشکلات راستہ اختیار کریں کہ جس میں لوگ ان پر طنز کریں، جسمانی تشدد کریں اور انہوں نے 13سال مشکل وقت برداشت کیا جس کی انہیں ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کامیاب بزنس کی حیثیت سے ایک مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں اور پاکستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آسان راستہ ڈھونڈتے ہیںوہ آپ کی بہتری کا راستہ نہیں ہوتا، جن لوگوں نے بڑے کام اور بڑے فیصلے کیے ہیں انہوں نے آسان کے بجائے مشکل راستہ چنا اور بڑا فیصلہ وہ ہوتا ہے جس میں خطرہ اور رسک ہوتا ہے ورنہ ہر کوئی یہ کام کر لے لہٰذا جو لوگ بھی اوپر پہنچے ہیں انہوں نے بڑے فیصلے کیے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک اور تانیہ کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا کہ وقت ثابت کرے گا یہ آپ کی زندگی کا بالکل درست فیصلہ اور ٹرننگ پوائنٹ تھا۔اس موقع پر انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ آپ سب مجھ سے یہ سب سن کر تنگ آ گئے ہوں گے کہبڑا مشکل وقت ملا ہمیں ' اور آپ یہ مجھ سے 5سال تک سنتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ آپ پانچ سال تک یہ سنتے رہیں گے کہ ہمیں کتنا بڑا خسارہ ملا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کتنا تھا، ہمیں تمام ادارے خسارے میں ملے اور ہمارا روپیہ دباؤ کا شکار تھا اور اس تمام تر خسارے کا سب سے بڑا اثر روپے پر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا روپیہ 200، ڈھائی سو اور تین سو تک جا سکتا تھا اور ہمارے پاس اسے روکنے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے لیکن ہم نے اس کو ایک حد تک روک دیا، ہم نے اپنی تمام تر توجہ معاشی بہتری پر مرکوز رکھی اور ہماری معاشی ٹیم نے اس استحکام کے لیے بہت محنت کی۔اس موقع پر انہوں نے ای گورننس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ای گورننس بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں کرپشن نیچے تک سرائیت کر چکی ہے،  کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے، جنہوں نے اوپر سے کرپشن کی وہ تو باہر جا چکے ہیں لیکن یہ اب نیچے تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ ای گورننس سے ہم کرپشن کو ختم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہ کرپشن کے خاتمے اور لوگوں کی زندگی آسان بنانے کا واحد ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ای گورننس عوام کی زندگی آسان بنانے کا ذریعہ ہے، جب حکومت کے ساتھ عوام کا تعلق ہوتا ہے تو ان کی زندگی آسان ہو جاتی ہے، انہیں لائنوں میں کھڑا نہیں رہنا پڑتا اور آخر میں آپ کے موبائل فون پر ہی سب کچھ ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم شوکت خانم میں 19سال قبل ای گورننس لے کر آئے جس کا فائدہ یہ ہوا کہ پرچیاں ختم ہو گئیں، جتنی بھی چھوٹی موٹی چوری و کرپشن کے ذرائع تھے، وہ سب ختم ہو گئے اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک ادارے میں جیسے ہی ای گورننس آئی تو پورا ادارہ تبدیل ہو گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اسی ای گورننس کو حکومتی اداروں میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم آپ دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں ہماری حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے لیے پورا زور لگائے گی۔

موضوعات: