ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

ریاست ڈالر کے عمل ہی سے باہر ہو چکی،یہ اب کن لوگوں کے ہاتھ میں ہے؟ڈالر جب دو سو روپے تک پہنچ جائے گا تو ہم کیا کریں گے؟ مشکل صورتحال سے بچنا ہے تو حکومت کو وہ کون سا کام کرنا ہوگاجو گزشتہ ماہ دبئی نے کیا ہے؟کیا واقعی نیب جانبدار ہو چکا ہے‘ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 21  مئی‬‮  2019 |

خواتین وحضرات۔۔ دوبئی نے پچھلے مہینے ایک نئی وزارت قائم کی‘۔۔اس وزارت کا نام منسٹری آف پاسی بیلٹیس ہے‘ یہ وزارت فیوچر کو ذہن میں رکھ کر مسائل کے حل تلاش کرے گی‘ مثلاً دوبئی کی حکومت کو سرکاری خریداری میں 60 دن لگ جاتے ہیں‘یہ وزارت۔۔ان 60 دنوں کے عمل کو 6منٹ تک لے کر آئے گی‘ یہ وزارت یو اے ای کے ہر بچے کا ٹیلنٹ بھی تلاش کرے گی اور فیوچر کے خوراک‘ روزگار‘ لباس‘ ہاؤسنگ‘ٹریفک‘ پانی‘ آلودگی اور نفسیاتی مسائل کا حل بھی آج ہی تلاش کر لے گی۔

ہمیں بھی اب بڑی شدت سے۔۔اس وزارت کی ضرورت ہے‘ یہ وزارت اگر ہوتی تو یہ عمران خان کو دو سال پہلے آج کے مسائل بتا دیتی اور یہ ملک کو تجربہ گاہ نہ بنا دیتے‘ آپ ڈالر دیکھئے‘ یہ آج 155 روپے کا ہو چکا ہے‘ ریاست ڈالر کے عمل ہی سے باہر ہو چکی ہے اور یہ اب انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ہاتھ میں ہے اور حکومت اب۔۔اس پر بیان تک نہیں دیتی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری 57 فیصد کم ہو چکی ہے‘ سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری دو سو فیصدگر گئی ہے‘ سٹاک ایکسچینج سے چند دن میں غیر ملکیوں نے 41 کروڑ ڈالر نکال لئے اور ہم اب فارن ریزروز سے تین ماہ کا ایکسپورٹ بل بھی ادا نہیں کر سکتے اور یہ (اس) عمران خان کے دور میں ہو رہا ہے جو کہا کرتے تھے ”ڈالروں کی بارش ہوگی، آٹھ ہزار ارب ٹیکس وصول کیاجائے گا، غیر ملکی سرمایہ کار آئیں گے اور پاکستان کا سنہری دورشروع ہوگا“ ڈالروں کی بارش کہاں ہے‘ وہ آٹھ ہزار ارب روپے کا ٹیکس کہاں ہے اور ملک کا وہ سنہری دور بھی کہاں ہے‘ ملک میں اگر امکانات کی وزارت ہوتی تو یہ سیاستدانوں کی رہنمائی کر تی اور یہ جان لیتے آصف علی زرداری کا پیٹ نہیں پھاڑا جا سکے گا‘۔۔انہیں سڑکوں پر نہیں گھسیٹا جا سکے گا‘ میاں نواز شریف بھی درندے‘ ناسور اور ملک کے دشمن نہیں ہیں اور آئی ایم ایف اور خودکشی میں سے بھی جب کسی ایک کا فیصلہ کرنا پڑے تو وزیراعظم آئی ایم ایف کے پاس ہی جاتا ہے

لہٰذا ملک کو بڑی شدت کے ساتھ امکانات کی وزارت کی ضرورت ہے تاکہ ڈالر جب دو سو روپے تک پہنچ جائے تو ہم کم از کم ملک کو وہاں رکھ کر ہی پلاننگ کر لیں‘ ہم بہرحال آج کے ایشو کی طرف آتے ہیں ”آصف زرداری اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے تو وہاں پر انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کو کسی کو بھی انٹرویو دینے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ ان کا عہدہ کسی کو انٹرویو دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس ر جاوید اقبال کے انٹرویو کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے تو وہ مجرم کیسے ہوسکتا ہے ابھی تک سوچ بھی نہیں ہے لیکن بغیر ثبوتوں کے 80سالہ شخص کو عدالتوں میں بلایا جاتا ہے اور بینکر کو ہتھکڑیاں لگا کر جیلوں میں ڈال کر معیشت چلانے کا کہا جاتا ہے تو ایسے میں معیشت نہیں چل سکتی“ کیا واقعی نیب جانبدار ہو چکا ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا اور کیا ملک میں اب بھی مہنگائی نہیں ہوئی‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…