زینب کے قتل میں ملوث مجرم عمران کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، کوٹ لکھپت جیل میں کون کون موجود تھا،میت لینے کون آیا؟جانئے

  بدھ‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2018  |  10:01

لاہور(آن لائن)قصور میں 6سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کرنے والے مجرم عمران علی کو انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔مجرم عمران علی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مجسٹریٹ عادل سرور کی موجودگی میں تختہ دار پر لٹکایا گیا جہاں زینب کے والد محمد امین ان کے دو چچا اور ایک ماموں بھی موجود تھے۔لاہور میں مجرم عمران علی کو تختہ دار پر لٹکانے کے بعد زینب کے والد محمد امین انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج انصاف


کے تقاضے پورے ہوئے ہیں تاہم سرعام پھانسی دی جاتی تو مجرم عمران عبرت کا نشان بن جاتا، میڈیا نے ہماری آواز کو بلند کیا۔زینب کے والد کا کہنا تھا کہ آج زینب 7 سال 2 ماہ کی ہوئی، مجرم کو پھانسی زینب کی ایک چیخ کے برابر بھی سزا نہیں ہے۔امین انصاری کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کے لیے ہم چیف جسٹس پاکستان کے شکرگزار ہیں زینب کی ماں تا حال شدید صدمے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا پر کے سامنے پھانسی کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ مطالبہ منظور نہیں ہوا، عمران خان نے ریاست مدینہ کا وعدہ کیا تھا اور ریاست مدینہ کا جو تصور پیش کیا گیا تھا اسے عملی جامہ پہننانے کا سنہری موقع تھا، محمد امین انصاری کا کہنا تھا کہ مجرم عمران کو سرعام پھانسی نہیں دینی تھی توقانون بھی ختم کردیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ مجرم کوسرعام پھانسی دینے کامطالبہ کیا تھا اور قاتل کوپھانسی دینے کی لائیو کوریج کا مطالبہ بھی مسترد کردیا گیا، انہون نے کہا کہ سفاک قاتل کے گھروالوں نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔اس موقع پر مجرم عمران علی کے اہل خانہ بھی جیل میں موجود تھے اور سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد جیل انتظامیہ نے عمران کی لاش اہل خانہ کے حوالے کردی اور وہ قصور روانہ ہوگئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی ان کے ہمراہ تھی۔واضح رہے کہ 12 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے اور زینب سمیت دیگر بچیوں کے قاتل عمران علی کو مجموعی طور پر 21 مرتبہ سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔پنجاب کے ضلع قصور میں جنوری 2018 میں ریپ کے بعد قتل ہونے والی 6 سالہ بچی زینب کے کیس میں لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 17 فروری 2018 کو عمران علی پر جرم ثابت ہونے پر انہیں 4 مرتبہ سزائے موت، تاحیات اور 7 سالہ قید کے علاوہ 41 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا۔اسی طرح عدالت نے دوسرے مقدمے کائنات بتول کیس میں مجرم کو 3 بار عمر قید اور 23 سال قید کی سزا سنائی تھی، ساتھ ہی عدالت نے مجرم کو 25 لاکھ جرمانہ اور 20 لاکھ 55 ہزار دیت ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔قصور کی رہائشی 6 سالہ زینب 4 جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی تھی اور 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ان کی لاش ملی جس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کی تھیں۔پولیس نے 13 جنوری کو ڈی این اے کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی اور ملزم کو گرفتار کیا جس کے بعد 23 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں زینب کے والد محمد امین کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملزم عمران علی کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔۔بعد ازاں مجرم عمران نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت عظمیٰ سے بھی مجرم عمران علی کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور 17 اکتوبر 2018 کو اس سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

موضوعات: