جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بیوی کے سر پر فقط دوپٹہ تھا

datetime 24  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہمارے قریبی لوگوں میں سے ایک آدمی سے واقعہ پیش آیا وہ 1971 سے پہلے مشرقی پاکستان کے اندر کام کرتا تھا، اس کے بڑے بڑے Gas Stations تھے، کروڑوں روپے کا مالک تھا بلکہ اربوں کا مالک تھا سیکڑوں کی تعداد میں اس کے گیس اسٹیشن تھے، اللہ کی شان دیکھئے اتنے مال پیسے والا تھا کہ اس کا ایک کام کرنے والا اس کے دو لاکھ چوری کرکے بھاگ گیا،

اس نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا، کچھ عرصے کے بعد وہ پھر واپس آ گیا رونے دھونے لگا مجھ سے غلطی ہو گئی اس نے وہ دو لاکھ بھی معاف کر دیے اور اس کو نوکری پر بحال کر دیا، سوچئے کہ وہ کتنا کاروبار اور مال رکھنے والابندہ ہو گا جسے پرواہ ہی نہیں تھی وہ دو لاکھ روپے کی۔اتنا کچھ اس کی مال جائیداد تھی لیکن جب جنگ میں ڈھاکہ علیحدہ ہواتو یہ اس حال میں کراچی اترا کہ اس کی بیوی کے سر پر فقط دوپٹہ تھا دونوں جیبیں خالی تھیں کچھ ہاتھ میں نہیں تھا، سب کچھ وہاں چھوڑ آیا، اب کراچی میں اس کے بھائی تھے، ان کے گھر آ کر ٹھہرے وہ خود یہ واقعہ سناتے تھے کہ جب میں آیا تو مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میں زندہ ہوں، میں کروڑوں اربوں پتی انسان اورآج ایک پیسہ بھی میرے پاس نہیں میں کس سے مانگوں گا، میں کیسے زندگی گزاروں گا، کہنے لگے قریب تھا کہ میرا Nerves break down ہو جائے مگر بیوی نیک تھی، دیندار تھی، پہچان گئی کہ میرے خاوند کے اوپر یہ حالات آ گئے ، چنانچہ جب ہم کھانے کے دستر خوان پر بیٹھتے تو میرے بھائی اور ان کے بچے بھی ہوتے تو میری بیوی یہ واقعہ چھیڑتی اور کہتی کہ ہمارے اوپر اتنا بڑاصدمہ آیا میں عورت ہوں میں زیادہ گھبرا گئی ہوں اور میرے خاوند کو تو اللہ نے پہاڑ جیسا دل دے دیاہے،انہوں نے اس کو ہاتھوں کی میل بناکر اتار دیا، ان کو تو پرواہ نہیں،کہنے لگے:

میں اندر دل سے خوف زدہ تھا اور وہ ایسی باتیں کرتی کہ سن سن کر مجھے تسلی ہونے لگی کہ جب میری بیوی کو کوئی غم نہیں تو پھر میں کیوں اتناپریشان ہو رہاہوں، میں Depression کاشکار کیوں ہو رہاہوں، چنانچہ ایسی باتیں کرتی کہ ان کا دل توبہت بڑا ہے انہو نے تو اتنے مال کو ہاتھوں کی میل سمجھ لیا ہے، ان کو تو اللہ نے پہلے بھی بہت دیا وہی پروردگار ہےاب ان کو یہاں بھی بہت دے دے گا یہ تو قسمت کا بادشاہ ہے،

قسمت کے دھنی ہیں، جب اس نے ایسی ایسی باتیں کیں تو کہنے لگے میری طبیعت بحال ہوگئی، ہم نے مشورہ کیا، بھائی سے ادھار لے کر ایک ٹرک خریدا اس کو کرائے پر چلانا شروع کر دیا میں نے محنت کی میرے مولا نے میری مدد کی کہنے لگا: پانچ سال کے بعد سیکڑوں ٹرکوں کی کمپنی کا میں پھر مالک بن گیا، آج پھر اربوں پتی بن کر زندگی گزاررہا ہوں مگر میں اپنی بیوی کا احسان کبھی نہیں اتار سکتا جس نے اس حالت میں بھی مجھے سنبھال لیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…