جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بیوی کو کیسے خوش رکھا جائے؟

datetime 8  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک عورت سو رہی تھی جب اس کی آنکھ کھلی تو رات کے تین بج رہے تھے اور اس کے سرہانے ایک پری بیٹھی تھی۔ پری نے اس سے پوچھا کہ اپنی دلی تین خواہشیں بتاؤ۔میں ایک دن میں ایک خواہش پوچھوں گی اور اس دن وہی پوری ہو گی۔لیکن ایک شرط ہے کہ جو کچھ تم اپنے لیے مانگو گی وہ تمہیں ضرور ملے گا مگر اس سے دس گنا زیادہ مقدار میں وہ تمہارے شوہر کو ملے گا۔

اس عورت نے بہت سوچا اور بولا کہ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میں صرف اور صرف اپنے شوہر سے پیار کروں اور بے انتہا کروں۔پری نے اسے بتایا کہ کل تمہاری یہ خواہش تمہارے لیے پوری ہو جائے گی اور دس گناہ تمہارے خاوند کے لیے پوری ہو گی۔ اگلی رات جب تین بجے تو پری نے اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔وہ عورت نکل کر باہر گئی تو پری نے دیکھا کہ وہ بہت خوش تھی اور اس کا چہرہ طمانیت سے چمک رہا تھا۔پری نے اس سے پوچھا کہ تم خوش ہو؟ تمہاری پہلی خواہش پوری ہو گئی؟ وہ عورت ہنسنے لگی اور بولی کہ ہاں پوری ہو گئی اور میں بہت خوش ہوں۔ پری نے پوچھا کہ اب دوسری خواہش بتاؤ۔ کل وہ بھی پوری ہو جائے گی اور تمہارے شوہر کے لیے دس گنا پوری ہو گی۔ وہ عورت بولی کہ مجھے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔آپ باقی دونوں خواہشیں کسی اور عورت کو دے دو۔ حاصل سبق عورت کی زندگی کی سب سے بڑی حسرت صرف یہی ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس سے پیار کرتا ہو۔ زیادہ تر عورتیں چاہے جتنی بھی امیر ہوں یا جتنی بھی کامیاب، وہ صرف اپنی پوری زندگی شوہر کی قبولیت اور اس کے پیار کے حصول میں بسر کر دیتی ہیں۔اگر آپ ان عورتوں کو دیکھیں جو بوڑھی اپنے شوہر کی اولاد اکیلے پال رہی ہوتی ہیں

تو آپ بخوبی اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ عورت کی فطرت میں بھی صرف ایک آدمی کی پوجا اور اس کی وفاداری ہوتی ہے۔ہمارے مشرقی معاشرے میں تو خیر سب عورتیں اپنی پوری زندگی برے سے برے سسرال کو اور اپنے بچوں کی تمام بے سروپا خواہشات کو صرف ایک مرد کے لیے ہی زندگی بھر برداشت کرتی رہتی ہیں۔جو مرد یہ سوچتے ہیں کہ بیوی کو کیسے خوش رکھا جا سکتا ہے ان کے لیے بہت آسان ہے کہ تہہ دل سے اس کی عزت کریں اور اس سے پیار کریں۔ باقی سب کچھ معمولی چیزیں ہوتی ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…