جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

آج لوگ اس پر اتنے مہربان کیوں تھے؟

datetime 24  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک آدمی دکان سے باہر نکلا تو اس کی نظرگلی کے نکڑ پر بیٹھے ایک بچے پر پڑی۔ وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ایک بورڈ پر تحریر تھا کہ’ میں اندھا ہوں‘۔اس آدمی نے اس کے آگے رکھے ایک ہیٹ میں کچھ پیسے ڈال دیے۔ پھر اس نے اس کا وہ بورڈ اٹھایا اور اس پر لکھی تحریر کو بدل دیا۔ لڑکے کو کچھ معلوم نہ پڑا لیکن اس کے ساتھ جو موچی بیٹھا تھا وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

وہ ان پڑھ تھا تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ اس آدمی نے کیا ردوبدل کی ہے۔ وہ آدمی بورڈ بدل کر اپنے آفس چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جو بھی شخص ادھر سے گزرتا تھا وہ اس ہیٹ میں کچھ نہ کچھ پیسے ڈال کر جانے لگا۔ لڑکا تو روز وہیں بیٹھتا وہیں بیٹھتا تھا وہ حیران ہوا کہ آج اتنے لوگ پیسے کیوں ڈال رہے ہیں۔ اس نے موچی سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ آج وہ اتنے مہربان کیوں ہیں؟ موچی اپنا سامان لپیٹ کر گھر جا رہا تھااس نے جلدی میں جواب دیا کہ وہ آدمی جو سب سے پہلے ہیٹ میں پیسے ڈال کر گیا تھا اس نے تمہارا بورڈ اٹھا کر اس پر کچھ اور لکھا تھا۔ موچی چلا گیا۔ بچہ اس سے پوچھتا رہا کہ اس نے بورڈ پر کیا لکھا تھا لیکن وہ بہت دور نکل چکا تھا۔ شام تک اس نے اپنا ہیٹ دو بار پیسوں سے خالی کیا اور ایک تھیلے میں پیسے بھرتا رہا۔اس نے تیسری دفعہ ہیٹ سامنے رکھا ہوا تھا اور ابھی بھی لوگ پیسے ڈال کر جارہے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس نیک انسان نے آخرکیا لکھا ہو گا؟ اتنے میں وہ آدمی آفس سے لوٹا تاکہ دیکھے کہ اس کا بورڈ بدلنا کسی کام آیا یا نہیں۔اس نے آکر اس بچے سے بولا کہ آج آپ کا دن کیسا رہا؟ بچہ سمجھ گیا کہ یہ وہی آدمی ہو گا تبھی پوچھ رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ آج میرے ساتھ لوگوں کا رویہ بہت زیادہ ہمدردانہ تھا۔

مجھے موچی نے جاتے ہوئے بتایا تھا کہ آپ نے میرا بورڈ تبدیل کر دیا تھا؟ آدمی بولا کہ جی بیٹا میں نے آپ کے بورڈ کی تحریر میں کچھ ردوبدل کی تھی۔ پہلے آپ نے لکھا ہوا تھا کہ’ میں اندھا ہوں‘۔۔اس سے سب لو گوں کا ضمیر نہیں جاگ سکتا صرف وہ لوگ جو رحم دل یا حساس تھے، وہ آپ کی مدد کر رہے تھے۔ میں نے ادھر لکھ دیا کہ ’آج کا دن بہت خوبصورت ہے

مگر میں اس کو نہیں دیکھ سکتا ‘۔۔۔اس سے ہر آنے جانے والے کو لگا کہ اس کی قسمت اچھی ہے کہ اس کے پاس بینائی ہے۔ جو کوئی بھی پڑھتا تھا وہ آپ کو دیکھ کر شکر کر رہا تھا۔ بات تو ایک ہی ہے بس کہنے کا زاویہ مختلف تھا۔ اسی طرح ہر انسان کسی بھی شے کو دیکھتا ہے تو اس کا ایک اپنا نظر یہ ہوتا ہے اور سب لوگ کسی بھی چیز کو دیکھ کر ایک سی بات یا ایک سا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔ جب سب اپنا اپنا زاویہ مل کر ایک دوسرے سے شےئر کرتے ہیں تو مزہ آتا ہے۔

موضوعات:



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…