منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

آج لوگ اس پر اتنے مہربان کیوں تھے؟

datetime 24  جولائی  2017 |

ایک آدمی دکان سے باہر نکلا تو اس کی نظرگلی کے نکڑ پر بیٹھے ایک بچے پر پڑی۔ وہ زمین پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ایک بورڈ پر تحریر تھا کہ’ میں اندھا ہوں‘۔اس آدمی نے اس کے آگے رکھے ایک ہیٹ میں کچھ پیسے ڈال دیے۔ پھر اس نے اس کا وہ بورڈ اٹھایا اور اس پر لکھی تحریر کو بدل دیا۔ لڑکے کو کچھ معلوم نہ پڑا لیکن اس کے ساتھ جو موچی بیٹھا تھا وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

وہ ان پڑھ تھا تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ اس آدمی نے کیا ردوبدل کی ہے۔ وہ آدمی بورڈ بدل کر اپنے آفس چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جو بھی شخص ادھر سے گزرتا تھا وہ اس ہیٹ میں کچھ نہ کچھ پیسے ڈال کر جانے لگا۔ لڑکا تو روز وہیں بیٹھتا وہیں بیٹھتا تھا وہ حیران ہوا کہ آج اتنے لوگ پیسے کیوں ڈال رہے ہیں۔ اس نے موچی سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ آج وہ اتنے مہربان کیوں ہیں؟ موچی اپنا سامان لپیٹ کر گھر جا رہا تھااس نے جلدی میں جواب دیا کہ وہ آدمی جو سب سے پہلے ہیٹ میں پیسے ڈال کر گیا تھا اس نے تمہارا بورڈ اٹھا کر اس پر کچھ اور لکھا تھا۔ موچی چلا گیا۔ بچہ اس سے پوچھتا رہا کہ اس نے بورڈ پر کیا لکھا تھا لیکن وہ بہت دور نکل چکا تھا۔ شام تک اس نے اپنا ہیٹ دو بار پیسوں سے خالی کیا اور ایک تھیلے میں پیسے بھرتا رہا۔اس نے تیسری دفعہ ہیٹ سامنے رکھا ہوا تھا اور ابھی بھی لوگ پیسے ڈال کر جارہے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس نیک انسان نے آخرکیا لکھا ہو گا؟ اتنے میں وہ آدمی آفس سے لوٹا تاکہ دیکھے کہ اس کا بورڈ بدلنا کسی کام آیا یا نہیں۔اس نے آکر اس بچے سے بولا کہ آج آپ کا دن کیسا رہا؟ بچہ سمجھ گیا کہ یہ وہی آدمی ہو گا تبھی پوچھ رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ آج میرے ساتھ لوگوں کا رویہ بہت زیادہ ہمدردانہ تھا۔

مجھے موچی نے جاتے ہوئے بتایا تھا کہ آپ نے میرا بورڈ تبدیل کر دیا تھا؟ آدمی بولا کہ جی بیٹا میں نے آپ کے بورڈ کی تحریر میں کچھ ردوبدل کی تھی۔ پہلے آپ نے لکھا ہوا تھا کہ’ میں اندھا ہوں‘۔۔اس سے سب لو گوں کا ضمیر نہیں جاگ سکتا صرف وہ لوگ جو رحم دل یا حساس تھے، وہ آپ کی مدد کر رہے تھے۔ میں نے ادھر لکھ دیا کہ ’آج کا دن بہت خوبصورت ہے

مگر میں اس کو نہیں دیکھ سکتا ‘۔۔۔اس سے ہر آنے جانے والے کو لگا کہ اس کی قسمت اچھی ہے کہ اس کے پاس بینائی ہے۔ جو کوئی بھی پڑھتا تھا وہ آپ کو دیکھ کر شکر کر رہا تھا۔ بات تو ایک ہی ہے بس کہنے کا زاویہ مختلف تھا۔ اسی طرح ہر انسان کسی بھی شے کو دیکھتا ہے تو اس کا ایک اپنا نظر یہ ہوتا ہے اور سب لوگ کسی بھی چیز کو دیکھ کر ایک سی بات یا ایک سا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔ جب سب اپنا اپنا زاویہ مل کر ایک دوسرے سے شےئر کرتے ہیں تو مزہ آتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…