بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

تباہی کے خطرے سے دو چار ونڈرز آف دی ورلڈ

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

بحیرہ مردار
İmage
دنیا کا سب سے نمکین سمندر اپنی تاریخ اور مسیحائی کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے، مگر گزشتہ 40 برسوں کے دوران اس کا رقبہ ایک تہائی حد تک اور سطح 80 فٹ تک کم ہوچکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آئندہ 50 برسوں کے دوران یہ مکمل طور پر غائب ہو جائے گا۔
دی الپس
İmage
دنیا میں اسکائنگ کیلئے مقبول ترین جگہوں میں سے ایک الپس زیادہ بلند نہیں، جس کے باعث یہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ ہر برس اس گلیشیئر کی 3 فیصد برف ختم ہو رہی ہے اور خدشہ ہے کہ 2050 تک یہ مکمل طور پر پگھل جائے گا اور یہاں کوئی گلیشیئر نہیں ہوگا۔
تاج محل
İmage
دنیا کی مشہور ترین عمارات میں سے ایک اور محبت کی یادگار سمجھے جانے والے تاج محل کے بارے میں ماہرین خدشات کا اظہار کرتے ہیں آلودگی اور زمین کی بریدگی کے نتیجے میں اس کی عمارت کے منہدم ہونے کا خطرہ ہے۔
گریٹ بیرئیر ریف، آسٹریلیا
İmage
دنیا میں مونگوں کی سب سے بڑی چٹان، جو ایک لاکھ 33 ہزار اسکوائر میل پر پھیلی ہوئی ہے، طویل عرصے سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، مگر ماحولیاتی چیلنجز کے باعث اس مقام کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور آلودگی کے باعث آئندہ 100 برسوں میں اس قدرتی عجوبے کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے جبکہ کچھ ماہرین تو اس سے بھی بڑھ کر خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ 2030 تک ہی یہ مقام مکمل طور پر غائب ہوجائے گا۔
مالدیپ
İmage
زمین پر سطح سمندر کا سب سے نچلا مقام بہت جلد سمندر کا ہی حصہ بننے والا ہے۔ یہ خوبصورت جزائر پر مشتمل ملک آئندہ سو برسوں کے دوران سمندر برد ہوجائے گا۔ یہ خطرہ اتنا سنگین ہے کہ یہاں کی حکومت دیگر ممالک میں زمینیں خرید رہی ہے تاکہ اپنے بے گھر ہونے والے شہریوں کو وہاں بسا سکے۔
کانگو طاس
İmage
افریقہ کا کانگو طاس جسے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے برساتی جنگل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، اپنے دس ہزار نباتاتی، ایک ہزار پرندوں اور چار سو ممالیہ جانداروں کی نسلوں کی بناءپر حیاتیاتی تنوع سے مالامالک مقام ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران 13 اسکوائر میل پر پھیلے جنگل کے رقبے میں خوفناک حد تک کمی آئی ہے جس کی وجہ غیرقانونی کان کنی ہے اور اقوام متحدہ نے پیشگوئی کی ہے 2040 تک اس جنگل کا دوتہائی حصہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوسکتا ہے۔
اہرام مصر
İmage
اہرام مصر کو بڑھتی آلودگی کے نتیجے میں خطرے کا سامنا ہے کیونکہ آلودگی کے نتیجے میں اس کی سطح کمزور ہورہی ہے اور یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ اس سلسلے کو روکا نہ گیا تو یہ اچانک مکمل طور پر منہدم بھی ہوسکتے ہیں۔
آمیزون ، برازیل
İmage
اکیس لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے برازیل کا آمیزون دنیا کا سب سے بڑا برساتی جنگل ہے، یہ دنیا میں سب سے زیادہ حیاتیاتی نسلوں کا گھر ہے مگر زراعت کی توسیع کا سلسلہ اس کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
دیوار چین
İmage
انسان کا تعمیر کردہ دنیا کا سب سے بڑا اسٹرکچر یعنی دیوار چین دو ہزار برس سے موسموں کا سامنا کرتی آرہی ہے اور سیاحوں کے پسندیدہ ترین مقامات میں سے ایک ہے مگر حالیہ برسوں میں فارمنگ کے شوق نے اس کے دو تہائی حصے کو نقصان پہنچایا ہے یا تباہ کردیا ہے اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگلے بیس برسوں میں یہ دیوار کھنڈر بن کر نہ رہ جائے۔
بگ سر، امریکا
İmage
کیلیفورنیا کا علاقہ بگ سر وہیل مچھلیوں کو قریب سے دیکھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے مگر حالیہ برسوں میں قحط سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات نے اس ساحلی خطے کو نقصان پہنچایا ہے اور سمندر میں وہیل مچھلی کے نظر آنے کے واقعات میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…