بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

چین کے مسحورکن پہاڑ۔۔۔

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

پلیٹ فارمز سے گزرتی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ سیاحوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کتنی دیر تک پلیٹ فارم پر رک کر ان پہاڑوں کا نظارہ کر سکتے ہیں‘اگر وقت ہو تو کار کے بجائے ہائیکنگ بھی کی جاسکتی ہے مگر یہ بات ذہن نشین رہے کہ آخری نظارتی کار10:30پرواپس آتی ہے مگر موسم کے حساب سے ٹائمنگ آگے پیچھے بھی ہو سکتی ہے ان مقامات کو دیکھنے کی قیمت 60آر ایم بی ہے

2011527153448536

جس میں داخلے کی ٹکٹ40ٓٓآر ایم بی اور نظارتی کار کی قیمت 20آر ایم بی بھی شامل ہے ‘ستر سال سے زائد عمر کے لوگ فری بھی ان مقامات سے انجوائے کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ بچے1.2میٹر کی بلند تک مفت داخل ہو سکتے ہیں مگر گرمیوں میں ان مقامات کی ٹائمنگ 5:30AMسے لیکر کر 6PMتک ہے۔ سونان ڈنیشیا سینک ایرضلع گنجون میں واقع ہے جو زہانگے کے مغرب اور لنزے کے شمال میں واقع ہے۔ یہ لنزے ڈنیشیا سینک ایریا سے بڑا علاقہ ہے۔ یہ نظارے بھی زیادہ خوبصورت ہیں‘ یہاں نظارتی کار نہیں ہے مگر دوسری کاروں کا یہاں داخلے کی اجازت ہے۔ اس مقام پر داخلے کی فیس 40آر ایم بی ہے۔ بنگو ڈنیشیا سینک ایریا ضلع کنگلی میں واقع ہے یہ سونان ڈنیشیا سینک ایریا سے 20کلومیڑ کے فاصلے پر واقع ہے ۔ اس جگہ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلومات حاصل ہیں۔ یہ انتہائی دلکش اور اس کی شکل ایک اونٹ ایک محل اور دربار کے جیسی ہے یہ علاقہ زیادہ تر ترقی یافتہ نہیں ہے اور یہاں پر سڑکیں بھی نہیں ہیں۔ بنگو ڈنیشیا سینک ایریا کا نظارہ صبح اور شام کے وقت انتہائی خوبصورت ہوتا ہے

9509538277_2b8be3ddb5_c

کیونکہ اس وقت مسلسل رنگ بدلتے ہیں۔ یہ پیلی اور سرخ لہروں سے مزین ہو جاتا ہے جو انتہائی دلکش نظارہ ہوتا ہے بارش اور بادل کے موسم میں اس جگہ پر جانے سے احتیاط کرنی چاہیے جب سورج چمک رہا ہو تب اس جگہ کو وزٹ کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت دیدہ زیب کلر نظر آتے ہیں۔ زہانگے میں سردیوں میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ اس وقت موسم ٹھنڈا اور خشک ہوتا ہے۔ ان مقامات پر جانے کے لیے سیاحوں کے پاس کوٹ کا ہونا لازمی ہے چاہے آپ گرمی میں وزٹ کیوں نہ کر رہے ہوں۔ اس جگہ تک پہنچنے کے لیے بیجنگ سے لنزھو کے لیے روزانہ 13فلائٹس کی ہیں۔ لنزھو سے زہانگے کا سفر چاہے بس یا ٹرین کے ذریعے کریں اس میں دو گھنٹے اور دس منٹ لگتے ہیں۔ مداح بیجنگ سے ڈن ہانگ شہر کے لیے بھی روزانہ ایک فلائٹ دستیاب ہوتی ہے اس کے علاوہ بذریعہ ٹرین بھی آپ کئی ذرائع سے ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں۔ 2010ء میں دیدہ زیب قوس و قزاح ڈنیشیا کے پہاڑ عالمی ورثہ کا حصہ بن گئے۔ جبکہ 2011ء میں ڈنیشیا کو دنیا کی طلسماتی اور حیران کن مقامات میں شامل کیا گیا۔ مختلف رنگوں کے امتزاج سے مزین دیدہ زیب پہاڑوں کو دیکھ کر انسان عش عش کر اٹھتا ہے اور اللہ تعالی کی صناعی پر رشک کرتا نظر آتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…