جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

چلڈرن ہسپتال میں بچی کی ہلاکت، لواحقین کے تشدد سے ڈیوٹی ڈاکٹر زخمی

datetime 31  مئی‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) چلڈرن ہسپتال میں بچی کی ہلاکت پر لواحقین آپے سے باہر ہو گئے، شدید غم و غصے کے شکار لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیاجس کے خلاف ڈاکٹرز نے ہسپتال میں علاج معالجہ بند کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا

سی سی پی او لاہور کے نوٹس لینے کے بعد پولیس نے تشدد میں ملوث 5ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔بتایا گیا ہے کہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں ایک سال کی بچی میڈیکل وارڈ میں داخل تھی جہاں اس کی صحت مسلسل خراب ہو رہی تھی، ڈاکٹرز کی کوشش کے باوجود بچی کی جان نہ بچ سکی اور وہ انتقال کر گئی۔بچی کے انتقال پر لواحقین نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر و عملہ پر تشدد کیا، مشتعل لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تھپڑوں، لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ڈاکٹر شدید زخمی ہو گیا۔واقعہ کے بعد ڈاکٹرز نے ہسپتال میں علاج معالجہ بند کر دیا اور او پی ڈی بند کر کے فیروز پور روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا، ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث فیروز پور روڈ پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ نے چلڈرن ہسپتال لاہور میں ڈاکٹرز پر تشدد کا نوٹس لے لیا ۔نصیر آباد تھانہ کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث 05 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کردی ۔بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…