جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بیلجیئم سے رہا ایرانی سفارت کار اسدی تہران پہنچ کر منظرعام پر آگئے

datetime 27  مئی‬‮  2023 |

برسلز (این این آئی )بیلجیئم کی طرف سے قیدیوں کے ایک تبادلے کے معاہدے کے تحت رہائی پانے کے بعد ایرانی سفارت کار اسد اللہ اسدی تہران پہنچ گئے۔

تہران میں ان کی موجودگی کی پہلی تصاویر اور ویڈیو سامنے لائی گئی۔ اسد اللہ اسدی کو برسلز نے دہشت گردی کے الزام میں 20سال قید کی سزا سنائی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سفارت کار اسد اللہ اسدی ایرانی حکام کے ایک گروپ میں گھرے ہوئے تھے۔ اس موقع پر حکومتی ترجمان علی بہادری جھرمی اور عدلیہ میں انسانی حقوق کی کمیٹی کے سربراہ کاظم غریب آبادی بھی موجود تھے۔ برسوں جیل میں رہنے والے اسد اللہ اسدی ویڈیو میں مسکراتے نظر آئے اور انہوں نے گلابوں کا گلدستہ بھی اٹھا رکھا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہ اور وزارت کے ترجمان ناصر کنعانی نے پہلے ہی اسد اللہ کی واپسی کا خیرمقدم کیا تھا۔ ناصر کنعانی نے کہا کہ اسدی 2018 سے جرمنی میں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ یورپ اور تہران کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کا مقصد لیے ہوئے یہ ایک بڑا امریکی اسرائیلی جھوٹ پر مبنی منظر نامہ تھا۔

دوسری جانب ایران نے بیلجیئم کے امدادی کارکن اولیور وینڈیکاسٹل کو رہا کر دیا۔ بیلجیئم کے اس کارکن نے 455 دن جیل میں گزارے۔ اسے 24 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا پھر اسے جاسوسی کے جرم میں 40 سال قید اور 74 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ اولیور بیلجیئم لے جانے والے طیارے کی سیڑھیوں پر نمودار ہوا تو وہ بہت کمزور ہوگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…