ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں دہشتگردی کے سبب اموات میں اضافہ ریکارڈ

datetime 16  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں عسکریت پسندوں کے حملوں اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں کم از کم 854 افراد جاں بحق یا زخمی ہوئے، یہ تعداد 2022 کے مجموعی اعدادوشمار کا نصف ہے۔سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران 219 دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کی

کارروائیوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 358 اور زخمیوں کی تعداد 496 رہی۔سب سے زیادہ 68 فیصد اموات خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئیں جن کی تعداد 245 ہے، اس کے بعد بلوچستان میں 64 (18 فیصد) اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ دیگر اموات سندھ، پنجاب اور اسلام آباد سے رپورٹ ہوئیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2023 کا آغاز سیکیورٹی فورسز کے لیے پوری دہائی کے مہلک ترین مہینے کے ساتھ ہواجبکہ گزشتہ برس دسمبر بھی دہائی کا مہلک ترین مہینہ ثابت ہوا تھا۔جنوری میں سیکیورٹی اہلکاروں کی 111 شہادتیں ہوئیں جوکہ ایک ہی مہینے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے، جولائی 2014 کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی 118 شہادتیں ریکارڈ کی گئی تھیں تاہم پہلی سہ ماہی کے دوران پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی 63 ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں جوکہ گزشتہ برس 136 تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں اور سرکاری اہلکاروں کی ہلاکتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں، جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی میں 88 تھیں اور رواں سال بڑھ کر 167 ہو گئیں۔پہلی سہ ماہی میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے زیادہ تر واقعات سیکورٹی اہلکاروں، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کے خلاف دہشت گرد حملے تھے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کم از کم 22 حملے کیے جن میں 107 ہلاکتیں ہوئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…