ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کا ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

datetime 8  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)صدرمملکت کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے،قانون کی رو سے اگر صدر کوئی بل نظر ثانی کیلئے پارلیمان کو واپس بھیجے تو حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے،

اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔(ن) لیگ کے رہنما عطا تارڑ کے مطابق سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر)بل 2023کے حوالے سے صدر کے نکات میں کوئی وزن نہیں، پارلیمان دوبارہ بل کو اکثریت سے منظور کریگی۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہاکہ صدر نے بل واپس کر کے درست فیصلہ کیا، سپریم کورٹ کے رولز میں ترامیم کی کوشش کے بعد اب الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات میں کمی احمقانہ قانون سازی ہے، بات چیت واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم الیکشن پر معاملات طے کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کیخلاف قرارداد لانے والے 42 اراکین کا کوئی مستقبل نہیں، سپریم کورٹ کے جج قابل احترام ہیں، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ پر کوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔خیال رہے کہ صدر پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر)بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا ہے۔صدر نے کہا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طورپر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنیاور دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…