ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عدالتوں نے ہمیشہ آمریت کی بجائے جمہوریت کا راستہ روکا: مریم نواز پھٹ پڑیں

datetime 5  اپریل‬‮  2023 |

راولپنڈی (پی پی آ ئی ) پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزرمریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان گھر سے باہر نہیں نکلتے کیونکہ سارے کیسز اصلی ہیں ، قانون کی بالادستی کا بھاشن دینے والا پاکستان کے آئین و قانون کو کچھ نہیں سمجھتا۔ چالیس سال پاکستان میں آمریت رہی ہے جبکہ ملک کا کوئی منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔

راولپنڈی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا ہے کہ کبھی کسی عدالت نے کسی ڈکٹیٹر کو کٹہرے میں لانے کی ہمت نہیں کی، کبھی کسی عدالت نے کسی ڈکٹیٹر کو نااہل نہیں کیا، جب کیا تو عوام کے منتخب وزرائے اعظم کو کیا۔چار فوجی آمر آئے اور دس، دس سال حکومت کی، کبھی کسی عدالت نے جرات نہیں کی کہ کسی ڈکٹیٹر کے آگے کھڑی ہو۔مریم نواز نے سوال کیا کہ کیا آپ کا زور صرف عوام کے منتخب نمائندوں پر چلتا ہے؟، کیا کبھی کسی عدالت کی جانب سے کسی ڈکٹیٹر کو سسیلین مافیا یا گاڈ فادر کا لقب ملا؟۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتوں نے آمریت کی بجائے جمہوریت کا راستہ ہی روکا۔مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف اور مجھ پر جھوٹے مقدمات قائم ہوئے، پاکستان میں سالوں آمریت رہی ہے، کسی منتخب وزیراعظم نے کبھی مدت پوری نہیں کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب عمران خان کے راستے کی رکاوٹ تھے، آج یہ ہمیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے جوڑتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جب ریفرنس دائر ہوا تو اس وقت حکومت عمران خان کی تھی۔عمران خان اور اس کے گھر والی نے توشہ خانہ کے تحائف چوری کیے ہیں، یہ قوم سے کئی سال جھوٹ بولتے رہے، سعودی عرب سے ملنے والی گھڑیاں فروخت کی گئیں، فرح گوگی جہاز بھر کر پیسہ پاکستان لائیں ان کا کوئی پتہ نہیں ، تم بھی جانتے ہو کہ تم نے جرم کیا ہے اور تمھارے سہولت کار بھی، ایک نیا طریقہ دیکھا گیا ہے چٹکی بجاو اور ضمانت لو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…