اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

عدالتی اصلاحات بل منظوری کیلئے صدر مملکت کو ارسال، دستخط کے بعد بل باقاعدہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا

datetime 30  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل منظوری کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کر دیا۔ جمعرات کو چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی اصلاحاتی بل کی تحریک پیش کی اور بل کے حوالے سے تفصیلات بتائیں

اور اس کے بعد بل کی شق واری منظوری دی گئی۔سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے حق میں 60 اور مخالفت میں 19 ووٹ آئے، بل کی شق وار منظوری کے دوران اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑی اور احتجاج کیا اور شور شرابا کیا۔سینیٹ اور قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل منظوری کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کر دیا ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے بعد بل باقاعدہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا اور اگر صدر مملکت اس پر رائے نہیں دے تو 10 روز کے اندر پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل از خود قانون بن جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس کا از خود نوٹس لینے کا اختیار محدود کرنے کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ٹائمنگ پر سوالیہ نشان ہے۔ایک انٹرو یومیں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل جس میں از خود نوٹس کے اختیارات کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس بل کی ٹائمنگ پر سوالیہ نشان ہے، اس میں سپریم کورٹ کے ساتھ اتفاق رائے ہوجائے تو بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بل ابھی نہیں دیکھا، میں نے ڈرافٹ دیکھا، جب بل آئے گا تو دیکھ کر اس کی منظوری کے حوالے سے فیصلہ کروں گا، بحران کو بڑھانے کے لیے بلکہ اس کو حل کرنے کے لیے کردار ادا کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…