اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس ہی بینچز بنانے کا اختیار رکھتے ہیں، اضافی نمبر دینے کے کیس میں جسٹس شاہد کا اختلافی نوٹ

datetime 30  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس میں جسٹس شاہد نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا جس کے مطابق چیف جسٹس ہی بینچز بنانیکا اختیار رکھتے ہیں۔ جمعرات کو جسٹس شاہد وحید نے 5 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ

بینچز تشکیل دینا چیف جسٹس پاکستان کا انتظامی اختیار ہے، سپریم کورٹ ازخود نوٹس نمبر2022/4 میں یہ قرار دے چکا ہے۔اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ قرار دیا چکا ہیکہ چیف جسٹس ہی بینچز بنانیکا اختیار رکھتے ہیں، ججز بینچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں اٹھا سکتے، اگر ججز کو بینچ کی تشکیل پر اعتراض تھا تو وہ کیس سننے سے معذرت کر سکتے تھے۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے، از خود نوٹس میں وہ باتیں زیر بحث لائی گئیں جو کیس کا حصہ ہی نہیں تھیں۔جسٹس شاہد وحید کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ 20 اضافی نمبر دینے پر اٹارنی جنرل اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کمیشن (پی ایم ڈی سی)جواب جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس میں جسٹس شاہد نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا جس کے مطابق چیف جسٹس ہی بینچز بنانیکا اختیار رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…