جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

شہباز شریف اورحمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں بری

datetime 12  اکتوبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (این این آئی) لاہور کی خصوصی عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے بنائے گئے منی لانڈرنگ مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور انکے صاحبزدارے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ گزشتہ روز شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی

اسپیشل کورٹ سینٹرل میں جج اعجاز اعوان کے روبرو کیس کی سماعت ہوئی جہاں وزیراعظم شہباز شریف پیش نہیں ہوئے، ان کی لیگل ٹیم نے ایک دن کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی۔ وزیراعظم کی حاضری کی استثنیٰ کی درخواست پر موقف اپنایا گیا کہ وہ سرکاری مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، عدالت وزیراعظم کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرے، اسی طرح حمزہ شہباز بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کے وکلا نے طبیعت ناسازی کے باعث انکی حاضری معافی کی درخواست دائر کی۔اس دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ وکیل امجد پرویز نے موقف اپنایا کہ عدالت میں تحریری دلائل بھی جمع کرا دیئے جس میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کے کسی بھی گواہ نے شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا نام نہیں لیا، تفتیشی افسر نے گواہوں کے بیان توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔امجد پرویز نے کہا کہ ایف آئی اے نے بدنیتی کی بنیاد پر یہ کیس بنایا، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم نہیں آئی، قانون کے مطابق پراسکیوشن کو اپنا کیس ثابت کرنا ہے، رشوت کے الزام میں پراسکیوشن کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، اپنے کیریئر میں ایسا کیس نہیں دیکھا جس میں پراسکیوشن بغیر ثبوت کے چل رہا ہے۔ایف آئی اے کے وکیل فاروق باجوہ نے کہا کہ ملزم مسرور انور شہباز شریف کے اکاؤنٹ کو آپریٹ کرتا رہا ہے۔

امجد پرویز نے کہا کہ یہ بات حقائق کے برعکس ہے،مسرور نے کبھی شہباز شریف کا اکاؤنٹ آپریٹ نہیں کیا، فاروق باجوہ نے کہا کہ جتنے بھی بے نامی اکاؤنٹس ہیں انہیں رمضان شوگر مل کے ملازمین آپریٹ کرتے تھے، امجد پرویز اس کیس بھی جتنا بھی ریکارڈ ہے وہ گزشتہ دور حکومت میں مرتب کیا گیا۔وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ گلزار احمد کی وفات کے بعد بھی اسکا اکاؤنٹ آپریٹ ہوتا رہا،

مسرور انور نے شہباز شریف اور گلزار احمد کے اکاؤنٹ سے ٹرانزیکشنز کیں۔عدالت نے ایف آئی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت یا ریکارڈ ہے جس پر وکیل ایف آئی اے نے جواب دیا کہ ریکارڈ میں اس بات کا ثبوت نہیں ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسپیشل سینٹرل کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

خصوصی عدالت نے بعد ازاں مختصر فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں منظور کر لیں۔یاد رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020ء میں ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ، کرپشن کی روک تھام ایکٹ اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو شوگر اسکینڈل میں منی لانڈرنگ کے کیس کا سامنا ہے جبکہ سلیمان شہباز برطانیہ مفرور ہیں۔گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے نے لاہور کی خصوصی عدالت کو بتایا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے بینک اکاؤنٹس میں براہ براست رقم منتقل نہیں کی گئی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…