ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعظم نے کوئی محفوظ راستہ نہیں مانگا، جھوٹی خبریں چلائی جارہی ہیں،شہباز گل

datetime 31  مارچ‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کوئی محفوظ راستہ نہیں مانگا، اس حوالے سے جھوٹی خبریں چلائی جارہی ہیں،خان شان سے آخری بال تک لڑے گا، وزیراعظم سیاسی بونوں اور ان کے پیچھے جو ہیں ان کا مقابلہ کرینگے، کسی ملک کو ڈکٹیٹ کرنے کی ایسی نظیر نہیں ملتی،کس کو وزیراعظم رہنا ہے اور کس کو ہٹانا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ کس کو وزیراعظم رہنا ہے اور کس کو ہٹانا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔شہبازگل نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن سے محفوط راستہ مانگا ہے، ایسی خبروں کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہوں، کیا وزیراعظم ان چوروں سے راستہ مانگیں گے؟ واضح کردوں کہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے،خان شان سے آخری بال تک لڑے گا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم کی لڑائی اس سامراج سے ہے جو حکومتیں بناتا اور گراتا رہاہے، استعفیٰ دینے کی وزیراعظم نے کوئی پیشکش نہیں کی اور ن ہی وزیراعظم نے ان سے کوئی راستہ نہیں مانگا، وزیراعظم سیاسی بونوں اور انکے پیچھے جو ہیں ان کابھی مقابلہ کرینگے۔شہباز گل نے کہا کہ مراسلہ سات تاریخ کو آیا کسی ملک کو ڈکٹیٹ کرنے کی ایسی نظیر نہیں ملتی، نامور صحافی بھی کہہ رہے ہیں کہ بیرونی قوتیں عمران خان کو ہٹانا چاہتی ہیں، جن صحافیوں کو شک و شبہ تھا وہ بھی کھل کر بات کررہے ہیں جبکہ کچھ صحافی حضرات سوچ رہے تھے کہ ایساہوسکتاہے یانہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کے بارے میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں، عمران خان نے اس ملک کیلئے بہت کچھ کیاہے، باہر کے ملک سے بیٹھ کر کہا جاتا ہے کہ صورت عمران خان کوہٹاناہے، دھمکی دی جاتی ہے کہ نہ ہٹایاتوخطرناک نتائج کیلئے تیارہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ اب سب دیکھیں گے قوم اپنے بیٹے عمران خان کیساتھ کیسے کھڑی ہوتی ہے؟کس کو وزیراعظم رہنا ہے اور کس کو ہٹانا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…