جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بھٹو اور عمران خان کی عقل اور کردار میں اتنا ہی فرق ہے جتنا احمد فراز اور شبلی فراز میں، سلیم صافی کا وزیراعظم کے خطاب پر ردعمل

datetime 27  مارچ‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی سلیم صافی نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ عمران خان نے آج بھٹو دکھنے کی بڑی کوشش کی لیکن بھٹو والا دل اور عقل کہاں سے لاتے، تقریر ڈکٹیٹ کرنے والے نے انہیں یہ نہیں سمجھایا کہ تمہاری عقل اور کردار میں اتنا فرق ہے جتنا احمد فراز اور شبلی فراز کی عقل اور کردار میں ہے،

بھٹو نے پھانسی کو بہادری سے قبول کیا لیکن خان تو جیل جانے سے بھی گھبراتا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی،ہمارے ملک میں باہر کے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنیکی کوشش کی جارہی ہے، ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں۔جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے پرچی اٹھا کر خطاب کیا اور کہا کہ ہمارے ملک کو پرانے لیڈرز کے کرتوتوں کے وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں۔انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کوشش کی تو فضل الرحمان، نواز شریف ان کی اْس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دئیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج اسی بھٹو کے داماد آصف زرداری اور اس کا نواسہ دونوں کرسی کی لالچ میں اپنے نانا کی قربانی کو بھلا کر اس کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی وکالت کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ باہر سے ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا جا رہا ہے، اس سازش کا ہمیں مہینوں سے پتہ ہے، یہ جو آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہوگئے ہیں اور ان کو اکٹھے کرنے والوں کا بھی ہمیں پتہ ہے، یہ ذوالفقار علی بھٹو والا ٹائم نہیں وقت بدل چکا ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ قوم بیدار ہے اور ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، ہم سب سے دوستی کریں گے غلامی نہیں کریں گے، ہمارے ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم ہمارے ملکی مفاد میں لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال دیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…