منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

سخت سزائیں دی جائیں گی، سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے کا دور لوٹ آئے گا، طالبان

datetime 24  ستمبر‬‮  2021 |

کابل (این این آئی)افغان طالبان کے بانی رہنماؤں میں سے ایک ملا نور الدین ترابی نے کہا ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر جرائم پر سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے کی سزا کا دور لوٹ آئے گا تاہم ممکن ہے اس بار سزائیں سر عام نہ دی جائیں۔امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ملا نور الدین ترابی نے ماضی میں طالبان کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں پر تنقید کو

رد کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان کے نئے حکمرانوں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ہمیں نہیں بتائے گا کہ ہمارے قوانین کیا ہونے چاہئیں، ہم اسلام پر عمل کریں گے اور قرآن کی رو سے اپنے قوانین بنائیں گے۔ملا نور الدین ترابی کے مطابق، سکیورٹی کے لیے ہاتھ کاٹے جانے جیسی سزا ضروری ہے کیوں کہ اس کا واضح اثر تھا، انھوں نے کہا کہ کابینہ عوامی سطح پر سزا دیے جانے سے متعلق غور کررہی ہے تاہم اس حوالے سے باقاعدہ ایک پالیسی تیار کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر سر عام سزائیں دی گئیں تو لوگوں کو ویڈیوز اور فوٹوز لینے کی اجازت ہوگی تاکہ دوسرے لوگ بھی عبرت حاصل کرسکیں۔طالبان رہنما نے کہاکہ ماضی میں اسٹیڈیم میں بھرے مجمع کے سامنے دی جانے والی سزاؤں کے حوالے ہر کسی نے ہم پر تنقید کی لیکن ہم نے کبھی ان کی سزاؤں اور قوانین کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔دوران انٹرویو ملا نورالدین ترابی نے بتایا کہ طالبان ماضی کے مقابلے اب تبدیل ہوگئے ہیں، اب طالبان ٹیلی ویژن ، موبائل ، تصاویر اور ویڈیوز کی اجازت دیں گے کیوں کہ یہ لوگوں کی ضرورت ہیں اور ہم اس حوالے سے سنجیدہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ طالبان میڈیا کو اپنے پیغامات عوام تک پہنچانے کا ایک ذریعہ تسلیم کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے پیغامات سیکڑوں کے بجائے لاکھوں افراد تک پہنچا سکتے ہیں۔خیال رہے کہ تقریباً 60 سالہ نور الدین ترابی طالبان

کی سابقہ حکومت میں وزیر انصاف تھے۔ان کا کہنا ہے کہ اس بار ججز (جن میں خواتین بھی شامل ہوں گی) کیسز کی سماعت کریں گے لیکن افغانستان کے قوانین کی اساس قرآن ہوگا۔یاد رہے کہ نور الدین ترابی 1980 کی دہائی میں روس کیخلاف لڑتے ہوئے اپنی ایک ٹانگ اور آنکھ سے محروم ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…