جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

سخت سزائیں دی جائیں گی، سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے کا دور لوٹ آئے گا، طالبان

datetime 24  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل (این این آئی)افغان طالبان کے بانی رہنماؤں میں سے ایک ملا نور الدین ترابی نے کہا ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر جرائم پر سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے کی سزا کا دور لوٹ آئے گا تاہم ممکن ہے اس بار سزائیں سر عام نہ دی جائیں۔امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ملا نور الدین ترابی نے ماضی میں طالبان کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں پر تنقید کو

رد کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان کے نئے حکمرانوں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ہمیں نہیں بتائے گا کہ ہمارے قوانین کیا ہونے چاہئیں، ہم اسلام پر عمل کریں گے اور قرآن کی رو سے اپنے قوانین بنائیں گے۔ملا نور الدین ترابی کے مطابق، سکیورٹی کے لیے ہاتھ کاٹے جانے جیسی سزا ضروری ہے کیوں کہ اس کا واضح اثر تھا، انھوں نے کہا کہ کابینہ عوامی سطح پر سزا دیے جانے سے متعلق غور کررہی ہے تاہم اس حوالے سے باقاعدہ ایک پالیسی تیار کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر سر عام سزائیں دی گئیں تو لوگوں کو ویڈیوز اور فوٹوز لینے کی اجازت ہوگی تاکہ دوسرے لوگ بھی عبرت حاصل کرسکیں۔طالبان رہنما نے کہاکہ ماضی میں اسٹیڈیم میں بھرے مجمع کے سامنے دی جانے والی سزاؤں کے حوالے ہر کسی نے ہم پر تنقید کی لیکن ہم نے کبھی ان کی سزاؤں اور قوانین کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔دوران انٹرویو ملا نورالدین ترابی نے بتایا کہ طالبان ماضی کے مقابلے اب تبدیل ہوگئے ہیں، اب طالبان ٹیلی ویژن ، موبائل ، تصاویر اور ویڈیوز کی اجازت دیں گے کیوں کہ یہ لوگوں کی ضرورت ہیں اور ہم اس حوالے سے سنجیدہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ طالبان میڈیا کو اپنے پیغامات عوام تک پہنچانے کا ایک ذریعہ تسلیم کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے پیغامات سیکڑوں کے بجائے لاکھوں افراد تک پہنچا سکتے ہیں۔خیال رہے کہ تقریباً 60 سالہ نور الدین ترابی طالبان

کی سابقہ حکومت میں وزیر انصاف تھے۔ان کا کہنا ہے کہ اس بار ججز (جن میں خواتین بھی شامل ہوں گی) کیسز کی سماعت کریں گے لیکن افغانستان کے قوانین کی اساس قرآن ہوگا۔یاد رہے کہ نور الدین ترابی 1980 کی دہائی میں روس کیخلاف لڑتے ہوئے اپنی ایک ٹانگ اور آنکھ سے محروم ہوگئے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…