جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

عورت مرد کو تھپڑ مارنے کے بعد ایک سیکنڈ کے لیے رکتی ہے اور کہتی ہے، ہمت مت کرنا،ڈرامہ لاپتہ کے وائرل کلپ پر شرمیلا فاروقی کا تبصرہ

datetime 15  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)حال ہی میں ایک پاکستانی ڈرامہ کا ایک منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑا دکھایا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جھگڑے کے دوران شوہر نے اپنی بیوی کو تھپڑ مارا لیکن اگلے ہی لمحے عورت پوری قوت سے مرد کو جوابی تھپڑ مارتی ہے۔اسی کلپ میں مزید دیکھا جاسکتا ہے کہ

عورت مرد کو تھپڑ مارنے کے بعد ایک سیکنڈ کے لیے رکتی ہے اور کہتی ہے، ہمت مت کرنا! میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گی۔یہ کلپ ڈرامہ لاپتاکی 12ویں قسط کا حصہ ہے اور پچھلے ہفتے ہم ٹی وی پر نشر ہوا، جس کے بعد سے یہ سین سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہے جس میں دانیال کا کردار مرزا گوہر رشید نے پیش کیا ہے جبکہ فلک کا کردار اداکارہ سارا خان نے ادا کیا ہے۔اس حوالے سے اداکار مرزا گوہر رشید نے بھی انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ٹی وی پر تشدد دیکھنا پسند نہیں۔ اس لیے میں کم از کم اپنے کرداروں میں اس طرح کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے لیکن ٹی وی پر تشدد دکھانا ہمارے معاشرے کا عام حصہ بن چکا ہے۔ عورت سے تفرت آمیز رویہ ٹھیک سمجھا جاتا ہے اور اس ہی کی آڑ میں عورت کو تھپڑ مارنا کوئی بری بات نہیں، جس طرح لاپتہ کی گزشتہ قسط میں دانیال نے کیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کو عجیب لگے گا لیکن یہ تھپڑ والے سین کی وجہ سے ہی میں نے اس کردار کا انتخاب کیا یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جبر انسان اپنی مرضی سے کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی ذہنی کمتر آدمی آپ پر اپنے بازئوں کا زور آزمائے تو آپ بغیر کسی خوف کے وہی کریں جو فلک نے کیا۔ ایک کرارا تھپڑ بہادر عورت کی طرف سے اس کمزور آدمی کو مارنا، عورتوں کے لیے ایک بڑا قدم ہوگا۔گوہر رشید کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی

رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ جبر ایک مرضی نہیں مجبوری ہے۔ ہزاروں عورتیں روزانہ ظلم کا شکار ہوتی ہیں اس لیے نہیں کہ وہ ان کی مرضی ہے بلکہ وہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ وہ جوابی وار یا اپنے شوہر کو چھوڑ نہیں سکتیں۔انہوں نے کہا کہ ازدواجی ریپ، گھریلو تشدد ، تیزاب کا شکار اور بچپن کی شادیاں ہمارے معاشرے کی وہ برائیاں ہیں جو پھیلی ہوئی ہیں۔شرمیلا فاروقی نے کہاکہ متاثرہ خواتین جسمانی اور مالی طور پر بے بس ہوتی ہیں، وہ خاموشی سے سب برداشت کرتی ہیں اور جو ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہیں ان کو یا تو خاموش کرادیا جاتا ہے ،متاثرہ خاتون پر الزام تراشی کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…