ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے کا کنٹرول سنبھال لیا

datetime 13  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے لوگر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان نے زاہل کے صوبائی دارالحکومت قلات پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔دوسری جانب افغان سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ

جمعہ کے روز تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے طالبان نے جنوبی افغانستان کے صوبے ھلمند کے صدر مقام لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان سے آنے والی اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ طالبان نے وسطی افغانستان کے صوبے غور پر بھی کسی مزاحمت یا لڑائی کے بغیر قبضہ کر لیا ہے۔ شہر کا کنڑول سنبھالنے کے بعد طالبان نے وہاں متعین افغان فوجیوں، سیاسی عمائدین اور کابل حکومت کو جوابدہ انتظامیہ کے عہدیداروں کو حفاظت کے ساتھ علاقے سے نکلنے کی اجازت دے دی۔ایک اعلی سکیورٹی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طالبان نے لشکر گاہ کو خالی کروانے کا فیصلہ کیا۔ پھر وہاں 48 گھنٹے کے لیے فائر بندی کا اعلان کر دیا گیا تاکہ اشرف غنی کی حامی فوج اور سول انتظامیہ کے عہدیدار کو شہر سے باہر جانے کا محفوظ راستہ دیا جا سکے۔افغانستان کے وسطی علاقے غور کے گورنر زلمے کریمی نے بتایا کہ طالبان جنگجوئوں نے جمعہ کی صبح کسی مزاحمت کے بغیر غور صوبے کے صدر مقام چغچر کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ادھر طالبان نے افغانستان کے دوسرے اہم ترین شہر قندھار کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا۔غزنی اور ہرات مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں جا چکے ہیں جس کے بعد طالبان کے زیر قبضہ صوبوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان کی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی تیزی سے جاری ہے اور طالبان کابل سے صرف 130 کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔طالبان اب شمالی افغانستان کے بیشتر حصے اور ملک کے تقریبا ایک تہائی علاقائی دارالحکومتوں پر قابض ہیں۔قندھار پر قبضہ طالبان کی بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ یہ شہر کبھی طالبان کا گڑھ تھا۔ اور ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر حکمت عملی کے لحاظ سے اہم شہرہے۔افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی میں گذشتہ چند دن کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے اور انھوں نے ایک ہفتے میں 12 اہم شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔طالبان کے کنٹرول میں جانے والے شہروں میں قندوز، سرِ پل، تالقان، سمنگان، شبرغن، زرنج، غزنی، ہرات، جوزبان، بادغیس اور لشکرگاہ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…