جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

حکومت نے عام آدمی کے استعمال کی کوئی ایسی شے نہیں چھوڑی جس پر ٹیکس نہ لگایا ہو،بلاول بھٹو

datetime 13  جون‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے عام آدمی کے استعمال کی کوئی ایسی شے نہیں چھوڑی جس پر ٹیکس نہ لگایا ہو،بجٹ میں فون کال، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس لگانے کے بعد اگلے دن واپس لینا حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔اپنے بیان میں پیپلز

پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ میں عوام پر تقریباً پونے چار سو ارب روپے سے زائد کے ٹیکس لگانے کے عمل کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں فون کال، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس لگانے کے بعد اگلے دن واپس لینا حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، عمران خان کی حکومت نے عام آدمی کے استعمال کی کوئی ایسی شے نہیں چھوڑی جس پر ٹیکس نہ لگایا ہو۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کی حکومت بھاری ٹیکسوں کے طوفان پر عوامی ردعمل سے ڈری ہوئی ہے، پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ میں ٹیکسوں کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکے کو مسترد کرتا ہوں۔ عمران خان کے عوام دشمن معاشی اقدامات کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی۔ ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بڑی تحقیقات اور محنت کے بعد بہترین بجٹ بنایا ہے، امید رکھتے ہیں بجٹ میں طے کیے گئے خدوخال مکمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پرپٹرول قیمتیں گریں گی توپٹرول لیوی رکھنا شروع کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب سے رعایتی قیمت پر تیل جلد ملنا شروع ہو جائے گا، امید ہے پٹرولیم لیوی میں اضافے کی ضرورت نہیں پڑے گی،

ایران پر سے پابندیاں اٹھیں گی تو تیل کی قیمتیں گر جائیں گی۔شوکت ترین نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تحفہ مسلم لیگ ن دے کر گئی، ماضی کی ادائیگیاں نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، ٹیک وصولیوں کے بارے میں مفتاح اسماعیل کے اندازے غلط ہیں لیکن انہیں بجٹ اچھا کہنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پربجلی کے نرخ نہیں بڑھائیں گے، بڑے بینکوں سے قرضے لیکر چھوٹے بینکوں کودیں گے، چھوٹے

بینکوںکے ذریعے کسانوں کو قرضے فراہم کیے جائیں گے، آسان شرائط پر قرضے ملنے سے کسانوںکو فائدہ ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ منی بجٹ تب آتے ہیں جب بجٹ سوچ کر نہ بنایا جائے، عوام کو رعایت دینے کی بات ہوگی تو منی بجٹ لاسکتے ہیں، ہمیں اس وقت گروتھ کی ضرورت ہے، معیشت کا دارومدار گروتھ پر ہے، ایگری کلچر میں گروتھ ہوگی تو اشیائے خوردونوش کی قیمت کم ہوں گی ایکسپورٹ سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…