پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

لیگی رہنما جاوید لطیف کوٹ لکھپت جیل سے رہا، جنگل کے قانون سے پاکستان میں خوشحالی نہیں آ سکتی،رہائی کے بعد تہلکہ خیز گفتگو

datetime 10  جون‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) بغاوت اور ریاست مخالف تقریر کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کو ضمانتی مچلکے جمع ہونے پر کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیاگیا،جاوید لطیف کی رہائی کے موقع پر لیگی کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے ان کے استقبال کیا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے

رہنما جاوید لطیف کی درخواست ضمانت پر رہائی کے لئے ضمانتی مچلکے سیشن عدالت میں جمع کرائے گئے جن کی ایڈیشنل سیشن جج نے تصدیق کی جس کے بعد روبکار جاری کی گئی۔ عدالتی عملہ روبکار لیکر کوٹ لکھپت جیل پہنچا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کوجیل سے رہا کردیاگیا۔ جیل کے باہر موجود لیگی کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے جاوید لطیف کا استقبا ل کیا او قیادت کے حق میں نعرے لگائے۔ رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہاکہ آج پنجاب جاگ چکا ہے، میرے نانا،دادا نے ہجرت کرنے والے مہاجرین کو تحفظ دیا، آج ہم ڈھونڈتے ہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے، آج مہنگی ادویات لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں، جو بات کہی میں اس پر قائم ہوں،میں اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔انہوں نے کہاکہ چند طاقتور لوگ پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، میں مادر ملت کے پاکستان کو پاکستان سمجھتا ہوں لیکن آج پہلے جیسا پاکستان نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہاکہ میرے دادا،نانا نے کہا تھا بن کے رہے گا پاکستان،بٹ کے رہے گا ہندوستان،جس پاکستان میں ہم نے سمجھا تھا کہ مذہبی آزادی ملے گی وہاں مجھے کہا جائے کہ کسی کی پسند کا نعرہ لگاؤں تو میں دادا نانا کے بنائے ہوئے پاکستان کے لئے جان بھی دینے کے لئے تیار ہوں،چند بااثر طاقت ور لوگ

جو اس پاکستان کو اپنی جاگیر بنانا چاہتے ہیں ان کی مرضی کے مطابق نہیں بولیں گے۔اگر آئینی حقوق کی جدوجہد کو آپ بغاوت کہتے ہیں تو پنجاب جاگ چکا ہے،پنجاب کو پہلے جاگنا چاہیے تھا مگر پنجاب سے دیر سے جاگاہے۔لوگ کہتے ہیں لاہور میں لوگ نکلیں گے تو تحریک کامیاب ہوتی ہے،میں پورے پنجاب کی بات کرتا ہوں۔انہوں نے

کہاکہ مفاہمت کا وقت گزر چکا ہے،آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہونی چاہیے۔ ایک بزدار کو ہٹا کر دوسرے بزدار کو لگائیں گے تو قبول نہیں ہو گا، جس فریق سے مفاہمت کی بات ہو رہی ہے اس کو سامنے آنا چاہیے، دوسرا فریق گارنٹی دے کہ آئندہ کوئی مداخلت نہیں ہو گی۔انہوں نے کہاکہ میرے سینے پر غداری کا میڈل سجایا گیا، جنگل کے قانون سے پاکستان میں خوشحالی نہیں آ سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…