پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیر اعلی محمود خان ایک بار پھربھیس بدل کر بغیر پروٹوکول فقیر آباد اور خزانہ پولیس اسٹیشنز پہنچ گئے

datetime 29  مئی‬‮  2021 |

پشاور(آن لائن)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے اچانک چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہفتے کے روز پھر سے بھیس بدل کر بغیر کسی پروٹوکول فقیر آباد اور خزانہ پولیس اسٹیشنز پہنچ گئے۔ وزیر اعلی نے ان تھانوں کے روزنامچہ رجسٹرز سمیت دیگر ریکارڈ چیک کیااور حوالاتیوں سے ملاقات کرکے ان سے پولیس کے برتاو کے بارے میں معلومات حاصل کی۔

وزیر اعلی نے خزانہ  پولیس اسٹیشن میں سی سی ٹی وی کیمروں کی خرابی اور صفائی کی ناقص صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تھانے کے انچارج کو سی سی ٹی وی کیمروں کو فوری طور پر فعال بنانے اور صفائی کی صورتحال کو فوری بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے اس سلسلے میں رپورٹ بھی طلب کر لی۔وزیراعلی نے تھانہ فقیر آباد میں بہتر انتظامات اور ریکارڈ منظم انداز میں رکھنے پر عملے کو شاباش دی۔ وزیراعلیٰ نے ان تھانوں میں موجود سائلین سے بھی ملے اور اُن سے اُن کے مسائل اور پولیس کے رویے کے بارے میں دریافت کیا اور تھانوں کے عملے کو تھانوں میں آنے والے بزرگ شہریوں اور خواتین کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ موجودہ حکومت تھانوں کو صحیح معنوں میں عام آدمی کی داد رسی اور انصاف کے مراکز میں تبدیل کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے اور عوام کا اعتماد مکمل طور پر بحال کرنے کے لئے پولیس کو اپنی کارکردگی مزید بہتر کرنی ہوگی۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام محکموں اور عوامی خدمات کے اداروں کے اچانک دوروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور عوام کو خدمات کی فراہمی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔قبل ازیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے مردان کے علاقہ کاٹلنگ میں شرپسند عناصر کی طرف سے پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت شہید کے ورثاء کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ وزیر اعلی نے واقعے میں زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لئے بھی دعا کی ہے۔ انہوں نے واقعے میں ایک راہگیر بچی کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…